ساتویں ہجری کےحالات وواقعات
فتح خیبر
ماہ محرم ۷ ھ میں خیبر کا واقعہ پیش آیا۔ مدینہ منورہ سے ایک سو ستر کلو میٹر کی دوری پر خیبر آباد تھا۔ غزوہ خندق میں کفار کا ساتھ خیبر کے یہودی نے بھی دیا تھا۔ آپ کو خبر ملی کہ خیبر کے یہودی نے قبیلہ غطفان کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ اس حملہ کو روکنے کے لئے آپ سولہ سو ،صحابہ کرام کو ساتھ لے کر خیبر روانہ ہوئے ۔
آپ نے اپنی ازواج مطہرات میں سے حضرت ام سلمہ کو ساتھ لیا یہودیوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو محفوظ قلعہ میں پہونچا دیا۔ وہاں آٹھ قلعے تھے ،سب سے مضبوط قلعہ، قموص تھا، اس قلعہ کا مالک مشہور پہلوان مرحب تھا۔ یہودیوں کے پاس ۲۰؍ ہزار فوج تھی، جو لڑنے کے لئے تیار تھی ۔قموص کے علاوہ باقی قلعے آسانی سے فتح ہوگئے ۔یہ قلعہ بہت مضبوط تھا فتح کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا، کل میں جھنڈا اس کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ صبح آپ نے آواز دی ،علی کہاں ہے؟ عرض کیا گیا ان کی آنکھوں میں آشوب ہے آپ نے بلا کر لعاب دہن لگایا فوراً شفا ملی، جھنڈا آپ نے ان کو عطا فرمایا۔
قلعہ قموص کے پاس پہونچے ،حضرت علی نے اسلام کی دعوت دی مرحب سامنے آیا دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی، حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حضرت علی نے آگے بڑھ کر قموص قلعہ کے پھاٹک کواکھاڑ کر ڈھال بنا لیا۔ جو اتنا وزنی تھا کہ چالیس آدمی اس کو اٹھا نہ سکتے تھے۔
خیبر فتح ہوگیا حضرت علی کو فاتح خیبر کا لقب ملا ۔اس جنگ میں ۹۳؍ یہودی قتل ہوئے اور ۱۵؍ مسلمان شہید ہوئے۔ خیبر کی زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا یہودیوں کے قیدیوں میں بی بی صفیہ بھی تھیں۔ جو بنی نضیر کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ آپ نے ان سے نکاح فرمایا۔ فتح خیبر کے بعد کچھ دن آپ وہاں ٹھہرے ۔سلام بن شکم یہودی کی بیوی زینب بنت حارثہ یہودیہ نے آپ کو دعوت دی۔ گوشت میںزہر ملا دیا۔ گوشت کی بوٹی نے آپ کو آگاہ کر دیا۔ آپ کھانے سے رُک گئے حضرت بشیر بن برا ء،کھانا کھا چکے تھے ،زہر کے اثر سے ان کی شہادت ہوگئی۔
ان کے قصاص میں زینب ،قتل کی گئی۔ آپ نے سفر خیبر میںپنجہ دار پرندوں کو حرام قرار دیا۔ گدھا اور خچر، کو کھانے سے منع فرمایا، اسی سال سود کو حرام قرار دیا گیا۔