حکومت کےٹکڑے ٹکڑے
حضرت عبداللہ بن حذافہ نے خط پرویز خسرو کو پہونچایا تو اس نے کہا کہ محمد نے میرے نام سے پہلے اپنا نام کیوں لکھا ؟یہ کہہ کر خط کو پھاڑ کر زمین پر پھینک دیا جب یہ خبر آپ کو ملی تو آپ نے فرمایا مزق کتابی مزق اللہ ملکہ اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ خدا اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ ایسا ہی ہوا خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شیر ویہ،نے رات کو سوتے ہوئے میں قتل کردیا۔ بادشاہت ٹکڑے ٹکرے ہوگئی ،خلافت فاروقی میں یہ حکومت صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔
Post Views: 24