چھٹی ہجری کےحالات وواقعات
صلح حدیبیہ
اسی سال ۶ھ میں صلح حدیبیہ، کا واقعہ پیش آیا۔ قرآن نے اسے فتح مبین کہا ہے۔ ذوالقعدہ ۶ھ میں آپ چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے ۔آپ کو اندیشہ تھا کہ شاید کفار مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنے سے روکیں گے۔ آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص کو مکہ خبر لانے بھیجا ۔اس نے خبر دی، قریش نے تمام قبیلے والوں کو اکٹھا کرکے ایک فوج تیار کر لی ہے۔ مکہ سے باہر نکل کر بلدح کے مقام پر پڑائو ڈال دیا ہے۔
آپ نے عام شاہراہ سے ہٹ کر سفر کرکے مقام حدیبیہ میں پڑائو ڈالا۔ یہاں ایک ہی کنواں تھا پانی کی قلت تھی کنواں کا پانی خشک ہوگیا ۔صحابہ پیاس سے بے تاب ہوگئے ،آپ نے ایک بڑے پیالہ میں دست مبارک ڈالا،چشمہ جاری ہوگیا خشک کنویں میں آپ نے وضو کا پانی ڈالا ،پانی ابل پڑا لشکر اور جانور سیراب ہوتے رہے، آپ حالت احرام میں تھے جنگ نہیں کرسکتے تھے۔ آپ نے صلح کیلئے حضرت عثمان کو مکہ بھیجا۔ کفار قریش نے حضرت حضرت عثمان سے کہا آپ کو عمرہ کی اجازت دیتے ہیں ۔لیکن محمد ابن عبداللہ اور مسلمانوں کو عمرہ کرنے نہیں دیں گے۔ حضرت عثمان نے فرمایا بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میں عمرہ نہیں کروں گا۔ بات بڑھ گئی کفار نے مکہ میں حضرت عثمان کو روک لیا۔ حدیبیہ میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔