سلمان فارسی کی رائے

سلمان فارسی کی رائے
اسی سال غزوہ خندق جس کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں واقع ہوا۔ اس جنگ میں کفار نے تمام قبائل کو شامل کر لیا ۔جن کی تعداد دس ہزار تھی، ابو سفیان اس کے سپاہ سالار تھے ۔آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اس حملہ کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ حضر ت سلمان فارسی نے رائے دی کہ شہر میں رہ کر اس کا دفاع کیا جائے۔ جدھر سے چڑھائی کا خطرہ ہو اس طرف سے خندق کھودی جائے۔
آپ ۸؍ ذی قعدہ ۵ھ؁ کو تین ہزار صحابہ کے ساتھ خندق کھودنے میں مصروف ہوگئے ۔آپ نے دس، دس آدمیوں پر دس، دس گز زمین تقسیم فرمادی تقریباً ۲۰؍ دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔
آپ ۳ ؍دن کے بھوکے پیٹ پر پتھر باندھ کر خندق کھودنے میں لگے رہے۔ اسی خندق کھودنے کے درمیان حضرت جابر نے آپ کو دعوت دی۔ دو کلو آٹا ایک بکرے کے بچے کا انتظام تھا۔آپ اور آپ کے ایک ہزار ساتھیوں نے کھایا آٹا اور گوشت ختم نہ ہوا۔
کفار قریش اور اتحادی، لڑنے کے لئے آگےآئے، خندق کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے ۔کفار پریشان تھے کہ خندق کیسے پار کریں۔ دونوں طرف سے صرف پتھر اور تیر پھینکے جا رہے تھے۔ اس گھمسان کی لڑائی میں آپ کی عصر کی نماز قضا ہوگئی ۔وادی بطحان میں سورج غروب ہونے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر مغرب کی نماز ادا کی۔ کافر کے حق میں آپ نے یہ دعا مانگی، اے اللہ! ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیا ۔یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، اسی جنگ میں حضرت زبیر بن عوام کو آپ کی طرف سے ’’حواری‘‘ کا خطاب ملا۔ جو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔ ابوسفیان کے لئے شدید سردی ،طویل محاصرہ، اور فوج کا راشن ختم ہو جانا پریشان کن تھا ۔پھر اللہ کا قہر نازل ہوا، مشرق سے ایسی آندھی آئی کہ چولہوں سے دیگیں الٹ گئیں، خیمے اکھڑ گئے۔ ابو سفیان نے اعلان کر دیا کہ اب محاصرہ بے کار ہے ۔کوچ کا نقارہ بجا کر بھاگ جانے کا حکم دیا ۔سبھی کفار محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔