پہلی ہجری کےحالات وواقعات
ہجرت مدینہ
جب مدینہ منورہ میں اسلام اور مسلمانوں کو پناہ مل گئی، تو آپ نے صحابہ کرام کو ہجرت کرنے کی عام اجازت دے دی ۔سب سے پہلے حضرت ابوسلمہ نے ہجرت کی اس کے بعد ہجرت کا سلسلہ جاری رہا ۔حضرت علی اور حضرت ابوبکر کو آپ نے روک رکھا تھا کہ ابھی مجھے ہجرت کا حکم نہیں ملا ہے۔ جب کفار مکہ نے دیکھا کہ اہل مدینہ نے مسلمانوں کوپناہ دی ہے تو آپ کی جان کے درپے ہوگئے۔
دارالندوہ میں آپ کے خلاف ایک میٹنگ رکھی، جس میں ابوجہل، ابوسفیان، امیہ بن خلف جیسے سردارنی قریش نے شرکت کی۔ شیطان نے بھی شیخ نجد کی شکل میں شرکت کی۔ الگ الگ رائے،پیش کی گئی ابوجہل نے معاذ اللہ، آپ کے قتل کی تجویز رکھی ،سبھوں نے کہا یہ تدبیر بالکل درست ہے۔
کافروں نے ہجرت کی رات آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا ۔آپ نے اپنے بستر پر، حضرت علی کو سلا دیا، ایک مٹھی خاک لیکر کافروں کی طرف پھینکا۔ آپ روانہ ہوئے کسی نے آپ کو نہ دیکھ سکا ۔آپ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ غار ثور، پر قیام فرمایا۔ ۴؍ دن قیام کرنے کے بعد یکم ربیع الاول دوشنبہ کے دن مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ آپ اعلان نبوت کے بعد ۱۳؍ سال مکہ معظمہ میں رہے۔ مکہ سے روانہ ہو کر مقام قبا میں ۸؍ ربیع الاول ،اعلان نبوت کے ۱۳؍سال بعد بروز دو شنبہ ۲۳؍ ستمبر ۶۶۲ ء میں پہنچے۔ اہل مدینہ دیدار کے لئے شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ آپ کا والہانہ استقبال ہوا ۔بچیوں نے دف بجا کر خوشی کا اظہار کیا اور یہ اشعار پیش کئے
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
ما دعا للہ داع
مقام قبا میں پنجشنبہ تک یعنی ۳؍ دن ٹھہرے اور وہیں اسلام کی پہلی مسجد، مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ وہ جگہ حضرت کلثوم بن ہدم کی تھی ۔آپ نے پسند فرمایا اور اپنے ہاتھ سے مسجد کی بنیاد رکھی۔
۱۲؍ ربیع الاول ۱ھ جمعہ کا دن تھا ۔آپ قبا سے بنی سالم کے گھروں تک پہنچے کہ جمعہ کا وقت ہو گیا۔
تقریباً سو آدمی کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی ۔یہ اسلام کا پہلا جمعہ تھا ،آج وہیں پر مسجد جمعہ قائم ہے۔ مدینہ کے جنوب سے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے پہلے یثرب تھا اب مدینہ منورہ نام ہوگیا۔
مدینہ کے سبھی مسلمان آپ کی میزبانی کا شرف چاہتے تھے۔ آپ نے فرمایا میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو جہاں یہ بیٹھے گی ،میرا قیام وہیں ہوگا۔ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر کے پاس بیٹھی، جہاں آج مسجد نبوی ہے ابو ایوب انصاری سات ماہ تک آپ کی میزبانی کرتے رہے ۔جب مسجد نبوی کے پاس آپ کے حجرے بن گئے۔ آپ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ قیام پذیر ہوگئے۔
مدینہ آنے کے بعد آپ نے اپنے غلام زید بن حارثہ اور ابو رافع کو پانچ سو درہم اور دو اونٹ دے کر مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ آپ کے اہل عیال کو مدینہ لائیں یہ دونوں حضرات آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ اور ام کلثوم زوجہ ام المومنین حضر سودہ اور دیگر اہل خانہ کو مکہ سے مدینہ منورہ لائے۔