تبلیغی دورہ
غم کا پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود تبلیغ کا کام روکا نہیں ۔بلکہ اور تیز کر دیا ،اس سلسلے میں آپ نے طائف کا سفر کیا ۔آپ کے ساتھ آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہ بھی تھا، وہاں کامشہور رئیس عبدیالیل، مسعود اور حبیب ان تینوں بھائی کو آپ نے اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہیں کیا، بلکہ بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا اور شریر لڑکوں کو ابھارا کہ آپ کے ساتھ برا سلوک کریں۔ ان بدبختوں نے آپ پر پتھر برسائے، آپ لہو لہان ہوگئے، آپ نے ایک باغ میں پناہ لی، جو عتبہ بن ربیعہ کا تھا ۔کافر ہونے کے باوجود رحم دل تھا ۔انہوں نے اپنے غلام عداس کے ہاتھ انگور کا ایک خوشہ بھیجا، عداس آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا ۔
اس سفر میں مقام نخلہ میں جنات کی ایک جماعت آپ پر ایمان لائی، طائف سے واپسی پر آپ نے فرمایا میں ان کی تباہی کے لئے کیوں دعا کروں یہ ایمان نہیں لائے تو کیا ہوا،مجھے امید ہے ان کی نسلیں ضرور ایمان لائے گی۔
اعلان نبوت کے ۱۰؍سال کے حالات واقعات
اعلان نبوت کے ۱۰؍ ویں سال ۲۷؍ رجب کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج عطا فرمائی ۔مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے گئے۔ انبیاء کرام کی امامت فرمائی ،پھر آسمانی سیر کرائی گئی، سدرۃ المنتہیٰ اور بیت المعمور تک پہنچے اور قرب خاص حاصل ہوا۔
اعلان نبوت کے ۱۲؍ ویں سال حج کے موقع پر مدینہ کے ۱۲؍ لوگ چھپ کر اسلام لائے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کوبیعت عقبہ اولیٰ ،کہتے ہیں ایک سال کے بعد حج کے موقع پر مدینہ منورہ کے تقریباً ۷۲؍ لوگوں نے منیٰ کی کھائی میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔اس کو بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں ،اس موقع پر حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم اپنی جان دے کر بھی آپ کی حفاظت کریں گے۔