طلوعِ آفتاب نبوت

طلوعِ آفتاب نبوت
تاجدار عرب و عجم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲؍ ربیع الاول، ۲۰؍ اپریل ۵۷۱؁ ء،واقعہ اصحاب فیل کے ۵۵؍ دن کے بعد مکہ شریف میں پیدا ہوئے۔ دادا نے آپ کا نام محمد رکھا۔ سب سے پہلے آپ نے حضرت ثویبہ کادودھ پیا،پھراپنی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا دودھ نوش فرمایا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو ساتھ لے گئیں۔ دودھ پینے کا زمانہ ان کے یہاں گزرا۔ چھ سال کی عمر تک حضرت حلیمہ کے ساتھ رہے۔ اسی دوران شق صدر کا واقعہ بھی پیش آیا۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
۶؍ سال کی عمر میں آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال مقام ابوا میں ہوگیا تھا۔ جو مکہ مکرمہ سے تقریبا ۱۲۰؍ کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ آپ کے دادا کا نام عبدالمطلب ہے اور پردادا کا نام ہاشم ہے۔ آپ کی دادی کا نام فاطمہ ہے۔ آپ کے ناناکا نام وہب ہے اور نانی کا نام برہ ہے۔
دادا کے انتقال کے بعد آپ اپنے چچا حضرت ابوطالب کی کفالت میں رہے ۔جب آپ کی عمر ۱۲؍ سال کی ہوئی حضرت ابوطالب نے آپ کو لے کر ملک شام کا تجارتی سفر کیا۔ آپ اعلان نبوت سے پہلے تین تجارتی سفر کر چکے تھے۔ دو بار ملک شام اور ایک بار ملک یمن کا۔
اعلان نبوت سے قبل آپ نے جنگ فجار میں حصہ لیا ۔آپ ہتھیار نہیں اٹھائے بلکہ تیر اُٹھا اُٹھا کر اپنے چچائوں کو دیا کرتے تھے، اس وقت آپ کی عمر بیس برس کی تھی یہ لڑائی قریش اور قیس، کے درمیان ہوئی اور قریش حق پر تھے اس لئے آپ نے ساتھ دیا آخر کار صلح پر لڑائی کا خاتمہ ہوا۔
۲۵؍سال کی عمر میں آپ کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوا جو بیوہ تھیں۔ پہلے ان کا نکاح ابوہالہ زرارہ تمیمی سے ہوا تھا۔ ان سےدو لڑکے تھے ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح عتیق بن عائذ مخزومی سے ہوا، ان سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئی ان کے دوسرے شوہر کے انتقال کے بعد چالیس سال کی عمر میںآپ سے چار سو مثقال مہر کے بدلے میں نکاح ہوا۔ خطبہ نکاح آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے پڑھا اور اپنے مال سے ۲۰؍ اونٹ مہر مقرر کیا۔ حضرت خدیجہ کی طرف سے آپ کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے خطبہ دیا اور چار سو مثقال مہر مقرر کیا۔