خلیفہ وقت
برادران اسلام آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے ، فاروق اعظم کے دور خلافت کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا ، جو عدل و انصاف مذہب اسلام میںہے وہ کسی مذہب میں نہیں ۔ ایک مرتبہ ایک جگہ سے کچھ کپڑے آئے جس کو تمام مسلمانوں نے آپس میں تقسیم کرلیا اس وقت خلیفہ فاروق اعظم تھے سبھوں نے کرتا سلوالیا سب کا کرتا کچھ چھوٹا ہوا لیکن فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا کرتا لمباتھا ، فاروق اعظم خلیفہ وقت ہیں اس کے باوجود ایک شخص نے عرض کرتا ہے اے امیر المومنین کپڑا تو برابر تقسیم کئے تھے پھر آپ کا کرتا لمبا کیسے ہو گیا کیاآپ کپڑا زیادہ لئے تھے جوفاروق اعظم بادشاہ وقت ہیں حاکم وقت ہیں ،ان کے رعب و دبدبہ سے ہر کوئی کانپتا ہے ۔ اس کے باوجود فاروق اعظم غصہ میں نہیں آتے ہیں ، ناراض نہیں ہوتے ہیں ، کیونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جانتے تھے ان کا اعتراض کرنا حق ہے ، آپ بہترین انداز میں جواب دیتے ہیں کہ اے شخص سنو جو کپڑا مجھے اور میرے بیٹے کو ملا تھا دونوں کو ملا کر میں نے اپنا کرتا بنوایا ہے۔ اتنا سن کر وہ شخص بھی خوش ہو گیا اور اس کا اعتراض بھی ختم ہو گیا۔
برادران اسلام آپ غور کیجئے اگر اس دور میںکسی عہدے دار سے کچھ پوچھا جاتا ہے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے اور جواب دینا اپنی توہین سمجھتا ہے اگر ایسی خوبی پائی جاتی ہے تو صرف مذہب اسلام میں پائی جاتی ہے ۔
محترم سامعین کرام آپ حضرات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود بازار سے بیوہ عورتوں کو سودا لا کردیتے ، یتیموں کے سرپر شفقت سے ہاتھ رکھا کرتے تھے ، رات کو بازاروں میں پھرا کرتے اور دیکھا کرتے کہ کوئی مصیبت زدہ مصیبت میںگرفتار تو نہیں ہے ، کوئی پریشان حال پریشانی میں مبتلاء تو نہیں ہے ۔ اگر کسی پریشان حال کو پاتے تو ان کی مدد کرتے۔
اس دور کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اگر کوئی اونچے عہدے پر فائز ہے تو کسی غریب کا وہاں تک پہنچنا مشکل ہے ۔ کوئی پریشان حال ان تک اپنی پریشانی بیان نہیں کرسکتا کیونکہ ان کے پاس غریبوں کے لئے کوئی وقت نہیں ۔ اگر غریبوں سے ملنے کا وقت ان کے پاس ہے تو صرف الیکشن کے موقع پر اس کے بعد کبھی اس کے پاس غریبوں کے لئے وقت نہیں رہتا ۔ پھر ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے ۔ اگر امیر اور غریب سب کے لئے یکساں قانون ہے تو صرف مذہب ِ اسلام میں ۔ اخوت کا درس ہے تو مذہبِ اسلام میں ۔
Post Views: 75