دنیا کا قانون
معزز سامعین کرام ! آپ دنیا کا جائزہ لیں ، دنیا کے قانون کو بغور دیکھیں معلوم ہوگا کہ سخت سے سخت قانون بنانے کے باوجود برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، ہزاروں قانون نافذ کرنے کے باوجود جرائم بڑھتے جا رہے ہیں ، کیا وجہ ہے کہ برائیوں کا سدّ باب نہیں ہورہا ہے ، آپ غور کریں تو پتہ چلے گا ان سب قانون کو بنانے والا انسان ہے ، نافذ کرنے والا انسان ہے اور انسان کے افکارو اذہان محدود ہیں ، انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں ۔ دنیا کا قانون داں جب قانون بناتا ہے تو ماضی اور حال کو دیکھ کر قانون بناتا ہے ۔اس لئے وہ قانون مستقبل کے لئے بے سود ہوتا ہے ، وہ قانون اتنا مستحکم نہیں ہوتا جو انسان کے لئے ہر دور میں کام آجائے اس لئے وہ قانون ریت کے تاج محل کی طرح تھوڑے دنوں میں زمیں بوس ہو جاتا ہے ۔ لیکن اسلام کا قانون وہ قانون ہے جس قانون کابنانے والا خالق کائنات ہے ، پروردگارعالم ہے جو حیُ قیوم ہے اور جس کا نافذ کرنے والا بانی اسلام مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، خالق کائنات کے سامنے ماضی بھی ہے حال بھی ہے ، مستقبل بھی ہے ، جو ہو چکا اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ جانتا ہے جو ہورہاہے اسکابھی علم ہے جو ہونے والا ہے اسکو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ جانتا ہے ، اس لئے رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے ایسا قانون بنا کے بھیجا جو ماضی والوں کے لئے کارآمد ہو جو حال والوں کیلئے بھی کافی ہوجو مستقبل والوں کے لئے بھی فائدہ مند ہو ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قانون کا نام رکھا ہے اسلام ۔
Post Views: 37