اســلام
نَحْمَدُ ہ وَنَسْتَعینُہ وَنَسْتَغْفِرْہُ وَنُوْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ
وَنَعُوذُبِاللّٰہِ مِنْ شُرُورِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیّٰاتِ اَعْمَالِنَا
مَن یَّھْدِہٖ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّلہُ مَنْ یُضْلِلْہُ فَلَا ھَادِی لہُ
وَنَشْھَدُ اَن لَّااِلٰہَ الَّااللّٰہُ ونَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ و رسولہ
امَّا بَعْدُ فَقَدْ قَالَ اللّٰہ تَعَالی فِی القُرآنِ الْمَجَیْدِ
اَعُوْذُ بِاللّٰہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم یٰایُّھاالذَّیْنَ اٰمَنُوا
اتَّقُوااللّٰہ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُم مُسْلِمُوْنَ
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ وَ بَلَّغَنَا رَسُوْلُہُ النّبی الکَرِیْم
محترم سامعین کرام ! ابھی ابھی میںنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا معنی و مطلب بیان کرنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں ، مناسب ہی نہیں بلکہ انسب سمجھتا ہوں کہ آقا ئے نامدار مدنی تاجدار سید ابرار و اخیار عرب کے ناقہ سوار شہنشاہ ذی وقار ، کائنات کے اولین فصل بہار ، رسولوں کے سردار ، دونوں جہاں کے مختار ، جانِ جہاں و جان بہار ، انسانیت کے وقار بے چین دلوں کا قرار ، بنیاد کائنات کا معیار ، احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار گہر بار میں غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں۔
{ اَللّٰھُمَّ صَلی عَلیٰ سَیْدِنَا مولنا محمدٍ بارک وسلم صلاۃ و سلاماًعیک یا رسول اللہ}
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے ۔{ یٰایُّھاالذَّیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰہ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُم مُسْلِمُوْنَ} اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم حالت اسلام میں مرو ، ۔
دنیامیںخوش نصیب انسان وہ ہے جو مرتے وقت حالتِ اسلام میں ہو ، دنیا میں خوش نصیب شخص وہ ہے جس کی زبان پر مرتے وقت لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہو۔دنیا کا خوش نصیب آدمی وہ ہے جو ایمان کی سلامتی کے ساتھ اس دنیا سے جائے۔ دنیا کا خوش نصیب انسان وہ ہے جس کی آخری سانس تک ایمان سلامت رہے ، لیکن مسلمان کسے کہتے ہیں ، کیا لمبی ڈارھی رکھنے کا نام مسلمان ہے ۔یوں تو بہت سے سادھو اور جوگی داڑھی رکھ لیتے ہیں ۔ کیا گوشت کھانے کا نام مسلمان ہے ، یوں تو بہت سی قومیں گوشت کھاتی نظر آتی ہیں ۔ کیا کرتا اور پائیجامہ پہن لینے کانام مسلمان ہے ، یوں تو لیڈر اور نیتا کرتا اور پائیجامہ پہن لیتے ہیں۔ کیا ٹوپی اور پگڑی پہن لینے کا نام مسلمان ہے ، یو ں تو پنجابی اور دیگر قوم بھی ٹوپی اور پگڑی پہنتی ہیں ۔ بلکہ اللہ ورسول کو ماننے کا نام اسلام ہے ، اللہ اور رسول کے ہر حکم کو ماننے کا نام اسلام ہے ، اللہ اور رسول کے حکم پر جان نچھاورکرنے کا نام اسلام ہے، اللہ ورسول کے نام پر جان ومال کی قربانی دینے کا نام اسلام ہے ۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا مطالعہ کرو ، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لو تو معلوم ہوگا کہ اللہ کے پیارے حبیب نے اللہ کے ہر حکم کو بندوں تک پہنچایا ، سرکار مدینہ نے پہلے خود ہر حکم پر عمل کرکے بندوں کو دکھایا ، اللہ کے ہر حکم کے سامنے سر جھکایا آپ قانون ساز تھے سب سے پہلے آپ ہر قانون پر عمل کرکے بتایا تاکہ لوگوں کو کوئی اعتراض باقی نہ رہے ، اس دور میں لوگ قانون بناتے ہیں خود اس پر عمل نہیں کرتے اسلئے وہ قانون زیادہ دنوں تک نہیں چلتا لیکن میرے سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا حکم دیا پہلے اس پر عمل کرکے بتایا ہے، نماز کا حکم دیا تو پہلے نماز پڑھ کر بتایا ، روزہ رکھنے کا حکم دیا پہلے روزہ رکھ کر بتایا، قربانی کا حکم دیا تو قربانی پہلے خود کرکے بتایا ،خیرات و صدقات کا حکم دیا تو پہلے خود بھوکے رہ کر خیرات کر کے بتایا ، لوگوں کوبیوہ عورت سے شادی کرنے کا حکم دیا تو پہلے خود بیوہ عورت سے شادی کرکے بتایا ، لوگوں کو صبر کا حکم دیا تو پہلے خود پتھر کھا کر صبر کئے ، لوگوں کو تجارت کا حکم دیا تو پہلے خود تجارت کر کے بتایا ، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیا تو پہلے خود پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرکے دکھایا، یتیموں کے ساتھ شفقت کا حکم دیا تو پہلے خود یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا ، جھوٹ نہ بولنے کا حکم دیا تو سب سے پہلے خود کو تصور جھوٹ سے بھی کوسوں دور رکھا ، برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا حکم دیا تو مہد سے لیکر لحد تک برائیوں سے دور رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جوقانون بانی اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے نافذ کیا تھا آج تک قائم ہے اور کل قیامت تک قائم رہے گا ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زندگی گزارنے کا ایک نمونہ بتایا ، ایک دستور بتایا۔ ایک ضابطہ حیات عطاکیا جس پر چلنا ہمارے لئے آسان ہو گیا ۔
Post Views: 48