توبہ کاوجود

توبہ کاوجود
آپ غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ گناہ کی ابتداء آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے ۔ آپ قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ توبہ کا وجود گناہوں سے بہت پہلے ہے ۔ حدیث میں ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایاکہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے عرش کے اوپر یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی { اِنِی لَغَفَّار لِمَن تَابَ وَاٰمَنَ و عَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اھتدیٰ } یعنی میں بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے ، اچھے کام کرے اچھی راہ چلے ۔ تو معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بندے پر بہت زیادہ مہربان ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے گناہوں سے پہلے توبہ کو پیدا فرمایا تاکہ انسان اگر گناہوں میں مبتلاء ہوجائے تو توبہ کرکے استغفار کرکے مجھ سے معافی مانگ کے گناہوں کی مغفرت کراسکتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے لیکن ہم لوگ گناہوں پر گناہ کئے جاتے ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ سے معافی نہیں مانگ رہے ہیں۔ اپنے گناہوں پر دلیر ہوتے جارہے ہیں ، ہمیں اپنے گناہوں کا غم نہیں ۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرے بندے مجھ سے معافی مانگیں اور میں بخش دوں۔