تــوبـــہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَہُ لِلْمُتَّقِیْن
وَالْصّلوٰۃُ وَالسَّلامُ عِلیٰ سَیِّدالْمُرْسَلِیْن امَّابَعْد
فَقَدْقَالَ اللّٰہُ فِیْ الْقُرانِ الْمَجِیْد اَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشیطانِ الرّجِیْمِ یَااَیُّھاالَّذِیْنَ آمنُوا
توبوا اِلٰی اللّٰہِ توبَۃَ نَّصُوحاً وَ صَدَقَ
اللّٰہُ العَظِیْم بَلغَّنَا رَسُولُہ النبِی الکَرِیْم
برادران اسلام!آئیے سب سے پہلے سبز گنبدمیں آرام فرمانے والے آقا بے سہاروں کا سہارا ،غریبوں کا ماویٰ ، یتیموں کا ملجا ، بے کسوں کا کس ، بے بسوں کا بس ، سیاح لامکاں ، مالک انس وجاں ، سیدالمرسلین طٰہٰ ویٰسن ، شہنشاہ ذی وقار ، کائنات کے اولین فصل بہار عرب کاناقہ سوار جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں نہایت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں{ اَللّٰھُمَّ صَلی عَلیٰ سَیْدِنَامولنا محمدٍ بارک وسلم صلاۃ و سلاماًعیک یا رسول اللہ}
رزق خدا کھایا کیافرمان حق ٹالا کیا !
شکر کرم ترس سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
برادران ملت اسلامیہ ! ابھی ابھی میں لے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا سیدھا ساترجمہ یہ ہے ’’اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے ۔‘‘
اس آیت کریمہ میں {توبۃ نصوحۃ} قابل غور جملہ ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ{توبۃ نصوحۃ}کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان ایک مرتبہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے تو دوبارہ اس گناہ کو نہ کرے ۔ جب ایک مرتبہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو دوبارہ اس گناہ کی طرف قدم نہ اٹھائے ، جب ایک مرتبہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے تو دوبارہ اس گناہ کاخیال اپنے دل میں نہ لائے ، جب ایک مرتبہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو دوبارہ اس گناہ کی طرف رجوع نہ کرے ۔ جب ایک مرتبہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ جائے جس طرح دودھ تھن سے نکلنے کے بعد تھن میں نہیں جاتا۔
Post Views: 25