عشق رسول
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا ہر وقت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا ۔ اس یہودی کا ایک لڑکا تھا ۔ ماں باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ اپنے والدین سے سرکار کی توہین سن کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کے لئے راستے میں کھڑا رہتا۔ ایک دن مدینہ منورہ کے راستے سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جارہے تھے ۔ وہ یہودی نوجوان سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو دیکھا ۔ آنکھ سے آنکھ مل گئی حضور مسکرانے لگے اس یہودی نوجوان کے دل کی دنیا بدل گئی ۔عداوت کا چراغ بجھ گیا عشق و محبت کا چراغ روشن ہوگیا اس نوجوان کو بغیر دیدار مصطفی کے ذرا بھی چین نہیں آتا ۔ اس کے دل میں والدین کی محبت اور رسول کی محبت کے درمیان جنگ شروع ہوگئی آخر محبت رسول غالب آگئی ۔ جب گھر میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آتی تو مسجد نبوی کے پاس کچھ بہانہ بنا کر ٹہلنے لگتا ۔ ایک بار دیکھ لینے کے بعد کسی بیمار کی طرح گھر واپس ہوتا ۔ اسی طرح عشق رسول میں بیمار پڑگیا اس کے والدین بہت علاج کرائے لیکن کچھ فائدہ حاصل نہیں ہورہاتھا ۔ وہ خوبصورت نوجوان کمزور ہو گیا ۔ آواز باریک ہوگئی۔ پیر ٹھنڈے ہو گئے ۔ اس یہو دی نوجوان کے باپ نے شفقت سے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ! میرے لال اگر کوئی آخری تمنا ہو تو بولو ۔ اس نوجوان نے کہا ابا جان آپ میری آخری تمنا ہنسی خوشی پورا کرنے کا وعدہ کریں تو میں اظہار کروں؟ تو اس نوجوان نے کہا ابا جان آپ برانہ مانیں میں چند دنوں سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت و محبت میں گرفتار ہوں لیکن آپ کے خوف سے یہ راز کسی پر ظاہر نہ کرسکا ۔ اب میری آخری تمنا ہے کہ صرف ایک بار نورانی چہرہ دیکھ لوں اور میری روح نکل جائے ۔ ابا حضور اگر آپ کا وعدہ سچا ہے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاکر عرض کیجئے کہ آپ کا ایک غلام دنیا سے جارہا ہے آپ اس کے سرہانے نجات کا آخری مژدہ سنادیں۔
بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سننے کے بعد باپ کا چہرہ غصہ سے لال ہوگیا مگر اکلوتے بیٹے کی آخری خواہش کو پورا کرنے کا وعدہ تھا سب غم و غصہ برداشت کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔ اگرچہ یہ میرے لئے خطرے کی بات ہے یہودی قوم مل کر مجھے ذات سے باہر کردیں گے لیکن تمہاری روح کی خوشی کے لئے سب کچھ برداشت کر لوں گا ۔ وہ یہودی مسجد نبوی کے دروازہ پرکھڑے ہو کر آواز لگایا ۔ میں محمد عربی سے ملنا چاہتا ہوں ۔ یہ خبر سن کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر تشریف لے آئے اور فرمایا ’’ تمہیں کیا کہنا ہے ‘‘ ؟ سرکار کی محبت بھری باتیں سن کراس یہودی کا دل نرم ہوگیا اور غمگین آواز میں کہا میرا اکلوتا بیٹا عین جوانی میںدنیا سے جارہا ہے، تمہاری محبت و عقیدت کا جادو اب اسے آخری نیند سلارہا ہے ۔ تمہارے عشق کی آگ میرے بیٹے کو جلا رکھی ہے اب وہ اپنی موت کی آخری گھڑی میںہے اور اس کی آخری تمنا یہ ہے کہ تم اس کے سرہانے کھڑے ہوکر آخرت کی نجات کا مثردہ سنادو ۔
یہ سن کر سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ اے میرے جاں نثار صحابیو ! میرے ساتھ چلو اس فیروز بخت نوجوان کو دیکھ آئیں جس کے خیر مقدم کے لئے آسمانوں میں دھوم مچی ہے ‘‘۔ جب یہ نورانی قافلہ یہودی کے گھر پہنچا تو دیکھا وہ عاشق رسول کی آنکھیں انتظار کرتے کرتے بند ہو گئیں ہیں باپ بلبلا کر کہا میرے لال آنکھیں کھولو دیکھو تمھارے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سرہانے کھڑے ہیں ۔ آواز کو سن کر جاتی ہوئی روح لوٹ آئی اور بیما ر نے آنکھیں کھول دی ۔ نظر کے سامنے نورانی چہرہ دیکھ کر دھیمی آواز میںاپنی تمنا ظاہر کی ۔ میرے سرکار ! میں اپنے دل میں آپ کے عشق و محبت کی مقدس امانت لئے ہوئے اب عالم جاودانی کی طرف جارہا ہوں آپ کے غلاموں میں میرانام درج کرلیا جائے ۔ مگر میرے نامہ اعمال میں خدائے لاشریک کے لئے ایک سجدہ نہیں ہے اس کے باوجود میری نجات کیسے ہوگی ِ؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔’’ اب کلمہ توحید کا اقرار کرکے اسلام میں داخل ہو جاؤ میں تمہاری نجات کا ضامن ہوں ‘‘ اس نوجوان نے آخری سانس لیتے ہوئے کہا اے میرے مالک ! قبر کی پہلی منزل سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک آپ کی ضمانت پر اسلام قبول کرتا ہوں {اَشْھَدُ اَنَّ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَسُوْلُ اللّٰہُ} اس کلمہ طیبہ کے ساتھ ہی اس نوجوان کی روح نکل گئی ۔ایک مرتبہ درود شریف پڑھیے { اَللّٰھُمَّ صَلی عَلیٰ سَیْدِنَا مولنا محمدٍ بارک وسلم صلاۃ و سلاماًعیک یا رسول اللہ}
برادران ملت اسلامیہ ! یہودی کا سارا گھر ماتم کدہ بن گیا اس نوجوان یہودی کے باپ نے کہا کہ حضور اب یہ مسلمان کا جنازہ میرا نہیں ہے یہ اسلام کی امانت ہے اب یہ میرے گھر کے بجائے آپ کی در رحمت سے اُٹھے گا کفن دفن کی ساری ذمہ داری آپ کی سپرد ہے ۔ حضور نے صحابہ کرام سے کہا عشق و ایمان کا یہ بڑا خزانہ اپنے کاندھوں پر اٹھا کے لے چلو اور یہ جنت کے دولہا کا جنازہ مدینہ کی گلیوں سے دھوم دھام کے ساتھ نکالا جائیگا قرب و جوار کے سبھی لوگ جنازہ میں شرکت کے لئے جمع ہوگئے ۔ آخری دیدار کے لئے چہرے پر سے کفن ہٹایا گیا تو چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔ یہ دنیا سے جانے والا خالی ہاتھ نہیں تھا ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضمانت کا اقرار نامہ اس کے ساتھ تھا ۔عاشق رسول کے جنازے میں اتنے لوگ جمع ہوگئے کہ مدینے کی گلیوں میں تل رکھنے کی جگہ نہیں رہ گئی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم صرف پنجوں کے بل چل رہے تھے ۔ ایڑی زمین پہ نہیں لگ رہی تھی ایک صحابی نے یہ دیکھ کر بڑی حیرانی سے پوچھ لیا تو سرکار نے فرمایا کہ آج آسمان سے رحمت کے فرشتے اتنی کثرت سے آئے ہیں اور جنازے میں شریک ہیں کہ ان کے ہجوم میں پورا قدم زمین پر رکھنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی ہے ۔ اس عاشق رسول کا جنازہ خودسرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتارنے لگے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قبر نور سے جگمگارہی ہے۔ اس وقت حضور کو اتنا پسینہ آرہا تھا کہ کرت مبارک پسینہ کے قطروں سے بھیگ گیا ۔ حضور جب قبر سے باہر آئے تو حضور کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا ۔ صحابہ نے کہا کیا بات ہے کہ آپ بہت خوش نطر آرہے ہیں تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب یہ نوجوان مجھ سے جنت کی ضمانت لے رہا تھا تو حوران جنت نے سن لیا اس لئے وہ جنتی لباس اور جنتی خوشبو لے کر پہلے ہی سے قبر میں حاضر تھیں وہ جنت کے دولھا کو لینے آئی تھیں اور حوران جنت کے ہجوم کی وجہ سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا ۔ یہ سن کر صحابہ کرام خوشی سے جھوم اٹھے کہ عشق مصطفی نے ایسے نوجوان کو جو زندگی میں ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا ایسے اعلیٰ منصب پر پہنچا دیا ۔
برادران ملت اسلامیہ آپ غور کیجئے تو آپ کو یقینا معلوم ہوگا کہ محبت رسول تمام عبادتوں سے افضل ہے، محبت رسول تمام مسجدوں سے افضل ہے ، محبت رسول تمام روزوں سے افضل ہے ، محبت رسول تمام نمازوں سے افضل ہے ، محبت رسول دنیا کی تمام چیزوں سے افضل ہے ، محبت رسول ہر مالی اور بدنی عبادت سے افضل ہے ، محبت رسول اپنی جان سے بھی افضل ہے ، محبت رسول جنت سے بڑھ کر نعمت ہے ۔
Post Views: 132