صدیق اکبر اور عشق رسول
اس واقعہ سے آپ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عشق رسول کا پتہ لگائیے ۔ ایک مرتبہ کفار قریش اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔رسول کائنات کی طرف سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے اور ابو جہل کی طرف سے صدیق اکبر کے لڑکے تھے ۔اللہ اکبر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسو ل کی محبت میں اپنے لڑکے سے لڑائی پر آمادہ ہیں ۔ لڑائی کے کچھ دن بعد صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لڑکے اسلام لائے ۔ ایک دن دوران گفتگو اپنے والد سے کہتے ہیں کہ ابا حضور لڑائی کے دن میری تلوار آپ کی گردن تک پہونچ چکی تھی لیکن میں نے آپ کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ اتنا سننے کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں اے میرے لڑکے سن اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔اگر میری تلوار تمہاری گردن تک پہونچ جاتی تو میں عشق رسول میں تم کو بیٹا سمجھ کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ دشمن رسول سمجھ کرتمھاری گردن اڑا دیتا
برادران ملت اسلامیہ دیکھا آپ نے کہ صدیق اکبر کی محبت رسول محبت اولاد پر غالب آگئی ۔واقعی جو مومن کامل ہوتا ہے وہ جان ومال ، عزت وآبرو، دوست واحباب گویا کہ دنیا و آخرت ہر چیز سے زیادہ رسول سے محبت کرتا ہے اور یہی مومن کامل کی پہچان ہے ۔
Post Views: 39