ادائے محبوب
برادران ِ اسلام ! آپ غور کیجئے انسانوں کے اذیان و افکار کا جائزہ لیجئے تو پتہ چلے گا معاشرہ و سماج کا بغور جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی ہر بات اچھی معلوم ہوتی ہے ۔ انسان جس کو چاہتا ہے اس کی ہر گفتار و کردار کو پسند کرتا ہے انسان اپنے محبوب کے ہر قول و فعل کو دل سے اپنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انسانوں سے فرماتا ہے اگر تم مجھ کو اپنا نا چاہتے ہو ، مجھ کو دوست بنانا چاہتے ہو تو محمد عربی صلی اللہ و سلم سے محبت کرو ۔ تو معلوم ہوا کہ اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو پہلے رسول کو راضی کرنا ہو گا ۔ اگر آپ رسول کو دوست بنانا چاہتے ہیں تو رسول کے قول وفعل کو اپنانا ہوگا، اگر رسول کو محبوب بنانا چاہتے ہیں تو لباس رسول کو اپنا نا ہوگا، اگر رسول کو محبوب بنانا چاہتے ہیںتو شعار رسول کو اپنانا ہوگا ، اگر رسول کو محبوب بنانا چاہتے ہیںتو رسول کے وضع قطع کو اپنانا ہوگا ۔ اگر رسول کو محبوب بنانا چاہتے ہیں تو ادائے محبوب کو اپنانا ہوگا۔
Post Views: 33