نماز کے فضائل
حدیث شریف میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے ۔ جس نے وقت پر اچھی طرح وضو کیا۔ خضوع و خشوع کے ساتھ نماز پڑھی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم سے عہد کر لیا ہے کہ اسے بخش دے۔ دوسری جگہ اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز جنت کی کنجی ہے ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں ’’ نمازمیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘۔
محترم حضرات ! مذکورہ حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اگر آپ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھوں میں ٹھنڈک پہنچانا چاہتے ہیں تو نماز شروع کر دیجئے ، کون مسلمان ہے جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھوں میں ٹھنڈک نہیںپہونچانا چاہتاہوگا۔ چاہتا ہوگا اور یقینا چاہتا ہوگا۔ اگر آپ حقیقی معنی میں عاشق رسول ہیں اور اپنے محبوب کی آنکھوں میں ٹھنڈک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ تو آج سے نماز شروع کر دیجئے اور پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں ٹھنڈک پہونچا کر دونوں جہاں کی نعمتیں حاصل کیجئے۔
اللہ کے پیارے حبیب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز جنت کی کنجی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جو نماز عشقِ رسول میں پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے ۔ جو نماز تلواروں کے سائے میں پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے ، جو نماز حُبّ نبی میں پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے ، جو نمازطریقہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے،جو نماز رسول کی یاد میں پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے ، جو نماز ادائے مصطفی پر پڑھی جائے وہ جنت کی کنجی ہے ۔ مگر جو نماز عشقِ رسول کے بغیر پڑھی جائے وہ نماز بارگاہِ الہیٰ میں قبول نہ ہوگی ، جو نماز ذکرِ مصطفی سے خالی ہوگی وہ نماز جہنم کی کنجی ہوگی۔
اسی لئے تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضاؔ فاضلِ بریلوی ارشاد فرماتے ہیں۔
ذکرِ خداجوان سے جدا چاہو نجدیو
واللہ ذکر حق نہیں کنجی سقر کی ہے
برادرانِ ملّت اسلامیہ معلوم ہوا کہ نماز عشقِ رسول میں پڑھنی چاہئیے۔ ادائے مصطفی پر پڑھنی چاہیئے ، طریقہ مصطفی پر پڑھنی چاہئیے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم اشاد فرماتے ہیں جس نے چالیس دن نمازِ فجر اور عشاء با جماعت پڑھی اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ دو برأتیں عطا فرمائے گا ایک نار سے دوسری نفاق سے۔
ایک دوسری جگہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں جو مسجد میں با جماعت چالیس راتیں نمازِ عشاء پڑھے کہ رکعتِ اولی فوت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دے گا ۔
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہو گیا کہ جو نماز کی پابندی کرتا ہے خصو صاً عشاء اور فجر کی نماز کی پابندی کر تا ہے عشقِ نبی میں ڈوب کر ادا کرتا ہے اس کے لئے یقینا دوزخ سے رہائی کا پروانہ ہے۔
Post Views: 8