حکایت
برادران اسلام آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ تلواروں سے نہیںبلکہ نظروں سے تبلیغ کرتے ہیں ، کوئی عالم دین سالہا سال تک وہ تبلیغ نہیں کرسکتا جو اللہ کے ولی آن ِ واحد میں کرتے ہیں ۔ ایک واقعہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ، آپ کو خود اندازہ ہو گاکہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں ، اللہ کی دی ہو طاقت ان کے پاس کتنی ہوتی ہے ۔ ایک ہندو بارات ایک شہر سے دوسرے شہر جارہیں تھی جس میں ہزاروں افراد موجود تھے چلتے چلتے وہ راستہ بھول گئے کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا جس سے پوچھ کر وہ راستہ معلوم کرتا ۔ ان لو گو ں نے دیکھا ایک درویش اپنی چھونپڑی میں یاد الہٰی میں مشغول ہیں ان میں سے کسی نے کہا اس فقیر سے راستہ دریافت کر نا چاہیے ۔ کسی نے اعتراض کیا ان کو کیا راستہ معلوم ہو گا وہ تو درویش ہیں ۔ کسی نے کہا آخر پوچھ لینے میں کیا حرج ہے ۔ تمام لوگ اس درویش کی چھونپڑی کے پاس گئے اور آواز لگائی بابا ہم راستہ بھول گئے ہیں ، بابا ہم راستہ سے بھٹک گئے ہیں ، ہم کو سیدھا راستہ نہیں مل رہا ہے، اتنا سننے کے بعد وہ درویش باہر آیا اور کہنے لگا تم راستہ سے بھٹک گئے ہو تم کو راستہ بتادوں یا راستہ دیکھا دوں ؟ سبھوں نے ایک زبان ہو کر کہا بابا راستہ دیکھا دیجئے ۔ درویش نے کہا تم سب اپنی اپنی آنکھیں بند کرلو تم کو راستہ دیکھا دیتا ہوں ۔ سبھوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی تو سامنے کعبہ معظمہ اور مدینہ منورہ نظر آیا ۔ وہ درویش کہنے لگا تمہارا سیدھا راستہ یہی ہے ، تم ایک مدت سے بھٹکے ہوئے ہو ۔ سبھوں نے آنکھ کھول دی اور سبھوں نے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہپڑھ کر اسلام میں داخل ہوگئے ۔ ان لوگوں کو دنیا و آخرت دونوں کا راستہ مل گیا ۔ اس کو کہتے ہیں اولیاء اللہ کی تبلیغ کہ آن واحد میں ہزاروں انسان کو حلقہ اسلام میں داخل کردیا ۔ یہ اللہ کے ولیوں کی شان کہ تھوڑی دیر میںعظیم کام انجام دیتے ہیں کہ لو گوں کو حیرت ہو جاتی ہے ، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں ، کتابوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس طرح بہت سے واقعات آج بھی تاریخوں کی کتابوں میں درخشندہ ستارے کی طرح چمک رہے ہیں ۔ ایک دردناک واقعہ آپ کو سناؤں جس کو سن کر آپ حیرت میں پڑجائیں گے۔