حکایت

حکایت
ایک اللہ کے ولی رات کو بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوی سے ملتے ہیں اور اپنی بیوی سے کہتے کھیر پکاؤ۔ وہ فرمانبردار بیوی کھیر پکاتی ہے ۔ اللہ کے ولی بیوی سے کہتے ہیں کہ فلاں جگہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اس کو کھیر کھلا کے آؤ۔ بیوی کہتی ہے کہ راستے میں ایک ندی پڑتی ہے اسے کیسے پار کروں ۔ وہ اللہ کے برگزیدہ ولی بیوی سے کہتے ہیں جاؤ اور ندی سے کہ دینا کہ مجھ کو ایسا شخص نے بھیجا ہے جو اپنی بیوی سے کبھی صحبت نہیں کیا ۔ عورت جا کر یہی کہتی ہے ندی یہ سنتے ہی اپنا سینہ چاک کرلیتی ہے اور عورت کو جانے کے لئے راستہ دے دیتی ہے ۔ عورت ندی پار کرکے اس جگہ پہنچی ۔ دیکھا ایک شخص عبادت الہی میں مشغول ہے ۔ کھیر اس کے سامنے رکھ دیتی ہے ۔وہ شخص وہ کھیر کھا لیتا ہے ۔ عورت کہنے لگتی ہے کہ میں واپس جاتے وقت کیسے ندی پار کروں؟ وہ شخص کہنے لگا جاؤ اور اس ندی سے کہہ دو کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آرہی ہوں جس نے کبھی کھایا پیا نہیں ہے ۔ وہ عورت واپس آتی ہے اور ندی سے کہتی ہے اے ندی میں ایسے شخص کے پاس سے آرہی ہوں جو اپنی زندگی میں کھا یا پیا نہیں ، ندی میں راستہ نمودار ہوتا ہے ۔ وہ عورت گھر واپس آتی ہے اور اپنے شوہر سے عرض کرتی ہے کہ معاملہ سمجھ میں نہیں آتا بظاہر تو جھوٹ معلوم ہورہا ہے ۔ وہ اللہ کے ولی کہتے ہیں کہ سن میں نے کبھی تم سے رضائے نفس کے لئے صحبت نہیں کی بلکہ رضائے الہیٰ کے لئے صحبت کی ہے وہ شخص جو کھیر کھایا وہ اپنابھوک مٹانے کے لئے نہیں کھایا بلکہ رضائے الہی کے لئے کھایا تاکہ موت واقع نہ ہوجائے اس لئے میرا ملنا ملنا نہیں ہے اور اس کا کھانا کھانا نہیں ہے ۔
برادران اسلام دیکھا آپنے جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں ہر کام رضائے الہی کے لئے کرتے ہیں اسی لئے ان کے کہنے پر ندی بھی راستہ دیتی ہوئی نظر آتی ہے ، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ جنت کی لالچ میں اللہ کی عبادت نہیں کرتے ،بلکہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عبادت کرتے ہیں ، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ رضائے الہی کے لئے عبادت کرتے ہیں ۔