تبلیغ دین
اللہ کے ایک ولی اپنی زندگی میں لوگوں کو رشد و ہدایت کرتے رہے ، تبلیغ دین کرتے رہے ۔ان کی شہرت اطراف و اکناف میں پھیل گئی لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں حاضری دیتے اور فیض حاصل کرتے ۔ جب ان کی زندگی کا آخری وقت آگیا تو ان کے مریدین نے عرض کیا حضور آپ کا مزار کہاں بنایا جائے ۔ ولی کامل نے ارشاد فرمایا اگر تم اپنا وعدہ پورا کرو تو میں وصیت کروں ۔ تمام مریدین نے کہا حضور آپ کے لئے ہم اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیارہیں آپ وصیت تو کیجئے ہم انشاء اللہ ضرور پوری کریں گے تو ولی کامل نے کہا جب میری روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے تو میرا جنازہ کاندھے پر اٹھانا اور چلتے رہنا جب تھک جاؤ جنازہ رکھ دینا اور آرام کرنا پھر دوبارہ جنازہ اٹھانا اور آگے چلتے رہنا جس جگہ میرا جنازہ زمیں سے نہ اُٹھے اسی جگہ مجھے سپرد خاک کردینا۔ ولی کامل کے وصال کے بعد مریدوں نے ایسا ہی کیا ایک مدت تک جنازہ لے کر چلتے رہے نہ لاش خراب ہوتی ہے نہ جنازہ زمین سے لگتا ہے ۔ایک مدت کے بعد شام کے وقت مریدوں نے ایک مندر کے سامنے لاش رکھی اور وہیں ٹھہر نے کا ارادہ کیا ۔ لیکن مندر کا پجاری باہر آیا اور اعتراض کیا تم لوگ مسلمان ہو ہماری مندر کو چھوت لگ جائے گی ۔ تم لوگ یہاں سے جاؤ ۔ تمام مسلمانوں نے کہا ہم مندر سے باہر رات گذارہ کریں گے صبح یہاں سے روانہ ہوجائیں گے ۔ آخرکار مسلمان رات وہیں بسر کئے اور صبح جب جنازہ اٹھانے لگے تو جنازہ زمین سے اٹھتا ہی نہیں تھا ، لوگ پریشان ہوگئے ، ہزاروں کوششیں کیں ۔ سبھوں نے زور لگایا ہندو مسلمان سب نے مل کر کوششیں کیں لیکن جنازہ نہیں اٹھا ۔ آخر کار یہ ماجرہ دیکھ کر تمام ہندو اور پجاری اسلام لائے اور ولی کامل کا مزار وہیں بنایا گیا اور مندر کو توڑکروہیں ایک مسجد بنائی گئی۔
اس ولی کامل نے بعد وفات بھی ہزاروں ہندوؤں کو اسلام میں داخل کرایا ۔ برادران اسلام دیکھا آپ نے کہ اللہ کے ولی مرنے کے بعد بھی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایک مدت تک ان کی لاش خراب بھی نہ ہوئی ۔ عام آدمی کی لاش دو تین روز تک خراب ہو جاتی ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ ولی اور عام آدمی میں آسمان و زمین کا فرق ہے ، ولی کی شان عام آدمی سے ہزاروں درجہ زیادہ ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سبھوں کو اولیاء کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
Post Views: 33