خالد بن ولید

خالد بن ولید
آپ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ خالد بن ولید ایک بہادر اور نڈر مجاہد اسلام ہیں ۔ ایک مرتبہ مختصر لشکر کو لے کر باطلوں کو کچلنے کے لئے کشتی پر سوار ہو کر دریا پار کرتے ہیں ۔ جب دریا پار کرلئے تو تمام مجاہدین اسلام کو مخاطب کر کے خطبہ دیا کہ ہماری جان و مال اللہ کے لئے ہے ہمیں نہ اپنی جان پیاری ہے نہ مال پیارا ہے ۔بلکہ سب سے زیادہ پیارا اسلام ہے ۔ تم میں سے جو واپس جانا چاہئے واپس جا سکتا ہے ۔ ابھی بھی کشتی موجود ہے اسلئے کہ جنگ سے پہلے میں کشتیاں جلادوں گا تاکہ دوران جنگ کوئی یہ نہ سمجھے کہ بھاگنے کے لئے کشتیاں موجود ہیں ۔ جب کشتیاں جلا دی جائیں گی تو تمہارے سامنے دو ہی راستے رہ جائیں گے ، باطلوں کو کچل دو یا پچھے دریا میں ڈوب مرو بھاگنے کا کوئی راستہ رہ نہیں جائے گا ۔ اتنا سننے کے بعد سبھوں نے کہا کہ آپ کشتیاں جلا دیجئے ہم مارنے اور مرنے کے لئے تیار ہیں ۔ حضرت خالد بن ولید نے کشتیاں جلا دیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مجاہدین اسلام بہادری سے لڑکے باطلوں کو کچل دیا اور پرچم اسلام کو بلند کردیا ۔
سرکار دوعا لم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسلمانوں کو جہاد کے لئے پکارتے ، جو جس حالت میں ہوتے تھے دوڑتے ہوئے بارگا ہ رسالت میں حاضر ہو جاتے  ۔ بوڑھے ہوں یا جوان ، بچے ہوں یا کمزور سب جہاد کے لئے جوش و خروش کے ساتھ حاضر ہو جاتے۔