حق کے لئے جان کی قربانی

حق کے لئے جان کی قربانی
علامہ یعقوب بن اسحٰق بہت ہی جلیل القدر عالم دین اور حق گو تھے بغداد کے ظالم و جابر بادشاہ متوکل باللہ کے دونوں فرزندوں کے استاد تھے ۔ دربار شاہی میں آپ کی کافی عزت تھی ۔لوگ ادب و احترام کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ ایک دن آپ دربار شاہی میں تشریف فرماتھے دوران گفتگو بادشاہ متوکل باللہ نے آپ سے سوال کیا کہ یہ میرے دونوں فرزند آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں یا حضرت امام حسن اور امام حسین ؟
یہ سوال سنتے ہی علامہ یعقوب بن اسحاق کے اسلامی خون میں زلزلہ آگیا اور انہوں نے غضبناک لہجہ میں کہا ’’ اے متوکل خدا کی قسم میرے نزدیک امام حسن اور امام حسین تو بڑی بات ہے امام حسن اور حسین کا ادنیٰ غلام میرے نزدیک تجھ سے اور تیرے دونوں بیٹوں سے لاکھ درجے بہتر اور محبوب ہے ‘‘ اتنا سننا تھا کہ ظالم بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور جلاد کو حکم دیا کہ علامہ یعقوب بن اسحق کی زبان کھینچ لی جائے ۔ چنانچہ اس حق گو عالم ربانی کی زبان کھینچ لی گئی اور وہ شہید ہوگئے ، برادران ملت  دیکھ لیا آپ نے کہ اپنی جان دے دی لیکن حق بات کہہ کر رہے ۔
اسی لئے کسی شاعر نے کیا خوب ہی کہا ہے ۔
مردِ حق باطل کے سامنے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا  سکتا  ہے  لیکن  جھکا  سکتا  نہیں