خواہش مصطفی
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے’’ ہم دیکھ رہے ہیں باربار آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تم کو پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ، ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف ‘‘ اس آیت کریمہ میں بظاہر قبلہ بدلنے کا حکم ہورہا ہے مگر ایمانی نظر سے دیکھا جائے تو اس آیت سے سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان ظاہر ہورہی ہے، سرکار کی عظمت ظاہر ہورہی ہے ، پیارے حبیب کی عظمت ظاہر ہورہی ہے اس لئے کہ تمام انسانوں کا کعبہ سرکارِ مدینہ صلے اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اسی لئے تو اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ۔
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ السلام بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہود و نصاریٰ کا کعبہ بھی یہی تھا اس بات پر یہودی طعنہ دیتے کہ حضور علیہ السلام تمام احکام میں تو ہماری مخالفت کرتے ہیں مگر ہمارے قبلہ کی طرف نماز پرھتے ہیں اس اعتراض کی وجہ سے حضور علیہ السلا کو رنج ہوتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کعبہ کابنانے والا حضرت ابراھیم علیہ السلام ہیں اور حضور علیہ السلام ابراہیمی ہیں ۔ حضور علیہ السلام کی خواہش یہ تھی کی خانہ کعبہ قبلہ ہو جائے ۔ ایک دن حضرت جبرئیل سے فرمایا کہ اے جبرئیل میرا دل یہ چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھوں ۔ جبرئیل نے عرض کیا یا رسول اللہ میں تو بندہ خدا ہوں بغیر حکم کے کچھ نہیںکرسکتا آپ حبیب اللہ ہیں آپ کی دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں۔ یہ کہہ کر جبرئیل چلے گئے ۔ حضور علیہ السلام وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف سر اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کیا ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ محبوبانہ ادا بہت پسند آئی اور فرمایا اے محبوب ہم تمہاری پیاری پیاری ادا کو دیکھ رہے ۔ اچھا اے محبوب ہم اسے قبلہ بنادیتے ہیں جسے آپ پسند فرمائیں اپنا رخ اسی طرف کر لیجئے جو قبلہ آپ کو پسند ہو ۔ حضور علیہ السلام کی حالت نماز ہی میں اپنا چہرہ اقدس بیت المقدس سے مسجد حرام کی طرف پھیر لئے اور سارا زمانہ خانہ کعبہ کی طرف پھر گیا ۔
Post Views: 21