شہد میں مٹھاس
ایک مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کی مکھی سے پو چھا کہ تو شہدکیسے بناتی ہے؟ بنانے کا طریقہ کیا ہے ، شہد کا وجود کیسے ہوتا ہے تو شہد کی مکھی عاجزانہ طور پر عرض کرتی ہے ، یاحبیب اللہ ہم مختلف باغوں میں جاتے ہیں اور انواع و اقسام پھولوں کا رس چوستے ہیں اور اپنے منھ میں لئے ہوئے اپنے چھتوں میں واپس ہوتے ہیں اور وہاں اگل دیتے ہیں وہی رس شہد بن جاتا ہے ۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے شہد کی مکھی تو سچ بتا کہ پھولوں کا رس پھیکا ہوتا ہے اورشہد میٹھا ہوتا ہے ، پھیکا پن میں مٹھاس کیسے پیدا ہو جاتی ہے۔ شہد کی مکھی مودبانہ عرض کرتی ہے یا رسول اللہ ہمیں قدرت نے سکھادیا ہے کہ جب تم باغوں سے اپنے چھتوں میں واپس ہونے لگو تو رستے میں میرے حبیب پر درود پڑھتے ہوئے آؤ ، یا رسول اللہ جب ہم واپس ہوتے ہیں تو آپ پر درود پڑھتے ہوئے واپس ہوتے ہیں ، اسی درود کی برکت سے اس میں میٹھاس بھی پیدا ہو جاتی ہے لذت بھی پیدا ہو جاتی ہے ، برکت بھی پیدا ہو جاتی ہے ، شفا بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔ برادران اسلام اگر ہم بھی درود شریف کثرت سے پڑھیں تو ہماری روکھی پھیکی عبادت میں مقبولیت کی میٹھاس پیدا ہو جائے گی ، درود شریف کی برکت سے ہماری عبادت میں لذت پیدا ہو جائے گی اور درودشریف کی برکت سے ہمیں روحانی اور جسمانی شفاء مل جائے گی۔
Post Views: 30