پھر شک کیوں ؟

پھر شک کیوں ؟
خالق کائنات خود ارشاد فرماتا ہے {لاریب فیہ} یہ وہ مقدس کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ، یہ وہ مقدس کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ، یہ وہ مقدس کلام ہے جس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ، یہ وہ مقدس کتاب ہے جو شک وشبہ کی گنجائش سے پاک ہے ۔ قرآن ببانگِ دہل اعلان کررہا ہے جس میں شک کرنے کا تصور بھی ذہن میںنہی لایا جاسکتا ۔
برادران ملت ! انسانی ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ، انسانی ذہن کے پردے میں ایک اعتراض ابھر تا ہے ۔ جس کلام میں شک وشبہ نہیں اس کلام میں پھر لوگ شک کیوں کرتے ہیں ۔ نزول زمانہ میں بھی لوگ اس میں شک کرتے تھے اس کاجواب یہ ہے کہ یقینا اللہ کا کلام میں کوئی شک نہیں ، اللہ کے کلام میں جو شخص شک کرتا ہے وہ اندھا ہے اس لئے کہ وہ چشم عدل سے قرآن کا مطالعہ نہیں کرتا ۔ اگر کوئی اندھا قسم کھا کر کہے کہ دنیا میں سورج کا وجود نہیں تو کوئی اس کی بات پریقین نہیں کرے گا ۔ اگر کوئی اندھا قسم کھاکر کہے کہ دن ورات برابر ہے تو کوئی اس کی بات پر بھروسہ نہیں کرے گا ۔ اگر چمگاڈر دن کو سورج نہیں دیکھ سکتا تو اس سے یہ لا زم نہیں آتا کہ سورج کا وجود نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی کافر اور مشرک قرآن کو اللہ کے کلام ہونے میں شک کرے تو کلام اپنی جگہ حق ہے بلکہ کہنے والا جھوٹا ہے ہزاروں کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے وجود کا انکار کیا تو اللہ کی وحدانیت میں کوئی کمی آگئی ؟نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ کہنے والے کا وجود مٹ گیا ۔