جبرئیل انسانی شکل میں

جبرئیل انسانی شکل میں
ایک شخص کا جنازہ آیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کیا اس پر قرض ہے ؟ لوگو ں نے عر ض کیا یا رسول اللہ اس پر چاردر ہم قرض ہے ۔ سرکار دو عالم صلے اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ ہی نماز جنازہ پڑھ لو جس کے اوپر چادرہم قرض ہو اور وہ بغیر ادا کئے مر جائے میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھو ں گا۔ اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کئے، یا رسول اللہ اللہ تبارک و تعالی آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ جبرئیل کو میں انسانی شکل میں بھیجتا ہوں وہ اس شخص کا قرض ادا کر دے گا آپ نماز جنازہ پڑھائیے کیونکہ وہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک مغفور ہے، بخشا ہوا ہے اس کی مغفرت ہو چکی ہے اور اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے جو شخص اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو گا اس کی بھی مغفرت ہو جائے گی۔
اللہ کے پیارے حبیب صلے اللہ تعالی علیہ و سلم نے جبرئیل سے پو چھا  اے جبرئیل ذرا تو بتا اس شخص کو یہ کرامت کیسے ملی ، اس شخص کو یہ عظمت کس عمل کی بدولت نصیب ہوئی ، اس کی بلندی مراتب کا سبب کیا ہے، اس کا کونسا عمل اللہ کو پسند آگیا؟ تو جبرئیل نے عرض کیا یا حبیبی یا رسول اللہ یہ شخص روزانہ سورہ اخلاص یعنی سورہ قل ھو اللہ احد سو(۱۰۰) مرتبہ پڑھتا تھا جس میں اللہ کی تعریف کا بیان ہے جس میں اللہ کی صفات کا بیان ہے، جس میں اللہ کی حمد و ثناء کا تذکرہ ہے اسی سبب سے اللہ تبارک و تعالی نے اس شخص کو یہ عظمت عطا فرمائی۔ جبرئیل نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی امتی میں سے جس نے تمام عمر خلوص و صدق کے ساتھ ایک بارسورہ اخلاص پڑھا وہ اس دنیا سے نہ جائے گا جب تک جنت میں گھر نہ دیکھ لے۔
برادران اسلام آج ہم طرح طرح کی بے ہودہ باتو ں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں ، لغویات بحث میں پڑ کر وقت ختم کرتے ہیں اتنی توفیق نہیں ہو تی کہ قرآن کی تلاوت کریں ۔ اپنے بچوں کو تعلیم دیں کہ روزانہ قرآن کی تلاوت کریں ۔