علــــم دیـــــن
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیّدِنَا وَ مَولٰنامُحَمَّداً
صــلیَّ اللّٰہُ تَعَالـیٰ عَلَیہِ وَسَلّم عَلَی الْعٰلمِینَ
جَمِیْعاً اَقَامَہ یَوم القَیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتلوثین
الخطاِّئینَ الْھَالِکِیْنَ شَفِیْعاً امَّابَعَدُ فَقَدْ قَالَ
اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید اعوذ باللّٰہ من
الشیـطان الــرجیم قل ھــل یستوی الذین
یعـــــــلمون والــــــذین لایعلـــــــمون
صدق اللہ العظیم و بلغنا رسولہ الکریم
ہر واعظ ہر مقرر خطبئہ مسنونہ کے بعد کسی نہ کسی آیت مبارکہ یا حدیث پاک کو اپنا عنوان سخن بنایا کرتا ہے اسی قانون اور ضابطے کے تحت میں نے قرآن مقدس کی ایک آیت کریمہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا مذکورہ آیت پر روشنی ڈالنے سے پہلے آپ اور ہم مل کر آئیے سب سے پہلے سبز گنبدمیں آرام فرمانے والے آقا بے سہاروں کا سہارا ،غریبوں کا ماویٰ ، یتیموں کا ملجا ، بے کسوں کا کس ، بے بسوں کا بس ، سیاح لامکاں ، مالک انس وجاں ، سیدالمرسلین طٰہٰ ویٰسن ، شہنشاہ ذی وقار ، کائنات کے اولیں فصل بہار عرب کاناقہ سوار جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے دربار عالی جاہ میں اپنی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں۔{اللــھم صــلی علــیٰ سیــدنا و مولٰنا محمدٍبارک وسلم صلاۃً وسلاماً علیک یا سیدی یارسول اللہ }
جب ــــــــعلم ہی ـــ نہیں تو عمل کیا ہوگا
جس بیاباں میں شجر ہی نہیں تو پھل کیا ہو گا
معزز سامعین کرام ! ابھی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم سے ارشاد فرماتا ہے ۔ اے محبوب آپ کہہ دیجئے کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ۔ برادران اسلام کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں ۔ نہیں ہرگز نہیں اس لئے کہ علم روشنی ہے اور جہل تاریکی ہے روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہو سکتی ، اجالا اور اندھیرا برابر نہیں ہوسکتا ، علم وہ دولت ہے جس کو کوئی چرا نہیں سکتا ، علم وہ دولت ہے جتنا خرچ کیا جائے اتنا بڑھتا ہے ۔ علم وہ خزانہ ہے جو کبھی گم نہیں ہوسکتا ۔ علم تاریک دلوں کو منور کرتا ہے ، علم انسان کو مہذب بنادیتا ہے ۔ انسان علم ہی سے بڑوں کا ادب کرنا سیکھتا ہے ، انسان علم ہی سے اپنے والدین کے مرا تب کو پہچانتا ہے ، انسان علم ہی سے بھلے اور برے کو پہچانتا ہے ، انسان علم ہی سے حرام و حلال کا امتیاز کرتا ہے ۔ انسان علم سے مودب ہوتا ہے ، انسان علم سے ہی معزز ہوتا ہے ، انسان علم ہی سے مدبر ہوتا ہے ، انسان علم ہی سے مفکر ہوتا ہے ، انسان علم ہی سے دانشور کہلاتا ہے ، انسان علم ہی سے طبیب کہلاتا ہے ، انسان علم ہی سے محدث کہلاتا ہے ، انسان علم ہی سے مفتی بنتا ہے ، انسان علم ہی سے شریعت کو پہچانتا ہے ، انسان علم ہی سے فقاہت کو پہچانتا ہے ، انسان علم سے ہی حدیث مصطفی کو جانتا ہے ، انسان علم سے ہی عظمت انبیاء کو پہچانتا ہے ، علم ہی سے انسان اپنے آپ کو پہچانتا ہے ، انسان علم ہی کے ذریعہ اپنے رب کو پہچانتا ہے ۔
Post Views: 22