حدیث کا مذاق
برادران اسلام حدیث پاک کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ علم دین کی تو ہین قرآن کی توہین اور علماء کی توہین کرنا کفر ہے اور مستحق عذاب ہے۔ نزہۃ المجالس میں ذکر ہے کہ ایک شخص حدیث سیکھنے کے لئے ایک محدث کے پاس جایا کرتا تھا ۔ کسی آدمی نے مذاق کے انداز میں کہا کہ میں نے سنا ہے کہ علم دین حاصل کرنے والے کے پیر کے نیچے فرشتے اپنے بازو بچھاتے ہیں آپ پیر آہستہ رکھتے تاکہ فرشتے کے بازو نہ ٹوٹ جائیں کہنے والا ابھی اپنی جگہ سے ہٹنے بھی نہ پایا تھا کہ اس کے دونوں پیر خشک ہوگئے اور وہ مفلوج ہوگیا۔
معزز سامعین کرام کبھی کسی حدیث کا مذاق نہ اڑائیں ورنہ آپ اسلام سے خارج ہو جا ئیں گے۔ اور عذاب الہی سے آپ چھٹکارا نہیں پا سکتے۔
نور مجسم سرکار دو عالم صلے اللہ تعالی علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر دن اور ہر را ت ایک ہزار نو سو ننا نوے اللہ تعالی کی رحمتیں علماء اور طالب علموں کے لئے برستی ہیں اور باقی لوگوں کے لئے ایک رحمت ہے۔ معزز سامعین اگر آپ اپنے آپ کو رحمتوں کی بارش سے سیراب کرنا چاہتے ہیں تو علم دین خود سیکھئے اور دوسروں کو سیکھائیے۔
Post Views: 27