دلچسپ واقعہ
میں بنارس کے مدرسہ مدینۃ العلوم جلالی پورہ میں زیر تعلیم تھا جب وطن جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوا تو کچھبد مذہب طلباء بھی سوار ہوئے تھوری دیر بعد گفتگو شروع ہوئی دیوبندی طلباء میں سے ایک نے کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا میں نے کہا بیشک علم غیب تھا ، جو نبی کے علم غیب پر ایمان نہ لائے وہ خارج ازسلام ہے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا آسی صاحب آپ لوگ یونہی بحث کرتے رہیں گے کوئی کہے گا تھا کوئی کہے گا نہیں تھا لیکن آپ لوگوں کی بحث ختم نہیں ہوگی میں نے کہا تھوڑی دیر میں یہ سب خاموش ہو جائیں گے اور ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ۔ میںدو چار سوال کرتا ہوں اور یہ جواب دیں ۔ دیوبندی طلباء نے کہا پوچھئے میں نے کہا خدا کو علم غیب ہے یا نہیں ایک نے جواب دیا ’’بے شک ‘‘ پھر میں نے سوال کیا کہ خدا نے اپنے علم غیب سے کسی کو عطاکیا یا نہیں ؟ ان طلباء میں سے ایک نے کہا ہاں دیا میں نے کہا کس کو دیا وہ لاجواب ہوگیا ، دوسرا طالب علم بول اٹھا اللہ نے کسی کو علم غیب نہیں دیا میں نے کہا قرآن فرماتا ہے { وما ھو علی الغیب بضنین } نبی علم غیب بتانے میں بخیلی نہیں کرتے ۔ تو نبی کو علم غیب کس سے ملا ، اتنا سننے کے بعد سب خاموش ہوگئے اور سبھی کے چہروں پہ تاریکی چھاگئی ۔ اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ قریب بیٹھے ہوئے شخص نے کہا کہ آسی صاحب آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہے میں نے کہا ذرہ برابر شک نہیں یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب کو علم غیب عطا فرمایا ۔
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
Post Views: 25