فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی تلوار
کلک رضاؔ ہے خنجر خونخوار برق یار
اعداء سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں
برادران اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے {و منھم من یلمزک فی الصدقت }’’ان میںسے کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میںتم پر لعن طعن کرتا ہے ‘‘ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ ایک منافق جو بظاہرنمازی اور عبادت گذار تھا اس کا نام حرقوص بن زہر ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے اس شخص نے کہا یارسول اللہ عدل کیجئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے خرابی ہو میں عدل نہیں کروں گا تو عدل کون کرے گا ۔ اسی وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن مار دوں ۔ حضور نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نماز ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے اور وہ قرآن پڑھیں گے ان کے گلوں سے نہ اُترے گا ۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر ۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حضور اقدس کی شان میں اتنا معمولی سا لفظ برداشت نہ کرسکے ۔ اس منافق کے قتل آمادہ ہو گئے ۔ اس دور میں دیوبندی جس طرح سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں بلاشبہ فاروق اعظم کی تلوار سے دیوبندی وہابی کی گردن بچ نہیں سکتی تھی ان کی تلوار یقینا گستاخ رسول کا فیصلہ کردیتی ۔
ایک مرتبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ایک یہودی اورایک مسلمان جو حقیقت میں منافق تھا زمین کے تنازعہ کے فیصلے کے لئے حضور کے پاس آئے ۔ حضور نے حق فیصلہ کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا وہ منافق فیصلہ نہ مانا اور فاروق اعظم کے پاس حاضر ہوئے ۔ فاروق اعظم نے کہا حضور علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ یہودی نے کہا ہم گئے تھے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ دیا لیکن یہ نہیں مانتا ہے ۔ فاروق اعظم نے کہا رک جاؤ ابھی فیصلہ کرتا ہوں ۔ گھر سے تلوار لیکر آئے اور ظاہر نما مسلمان کی گردن اڑادی ۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا کہ فاروق اعظم نے ایک مسلمان کو قتل کردیا لہذا قصاص لیا جائے ۔ سب بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فاروق اعظم کے حق میں آیت نازل فرمائی کہ جو رسول کے حکم کو نہ مانے اور ان کو عادل نہ سمجھے وہ مسلمان نہیں منافق ہے ۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد تمام مسلمان خاموش ہوگئے اگربرادران اسلام اس دور میں فاروق اعظم ہوتے تو کسی دیوبندی اور وہابی کی خیر یت نہ تھی ان کی تلوار نماز اور روزہ نہ دیکھتی بلکہ منافق اور مسلمان کا فیصلہ کردیتی۔
د
Post Views: 52