بد مذہب  کیلئے بارہ سو گیارہ روپئے کا انعام

بد مذہب  کیلئے بارہ سو گیارہ روپئے کا انعام
مثل فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکر   آیات   ولادت  کیجئے
اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں اپنے پیارے حبیب کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے {لقد من اللہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولا من انفسھم} بے شک اللہ کا بڑا احسان ہومومنوں پر کہ ان میں سے ایک رسول بھیجا ۔ منت نعمت عظیم کو کہتے ہیں اور بے شک سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نعمت عظمی ہے کیونکہ خلق کی پیدائش جہل و عدم درایت و قلت فہم و عقل پر ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں مبعوث فرماکر انہیں گمرا ہی سے رہائی دی اور حضور کی بدولت انہیں جہل سے نکالا اورآپ کے صدقے میں راہِ راست کی ہدایت فرمائی اور آپ کے طفیل بے شمار نعمتیں عطا کیں ۔ اس آیت کریمہ میں ایک لفظ مومن قابل غور ہے یعنی جو مومن ہوگا وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو نعمت عظمی سمجھے گا جو انکار کریگا وہ مومن نہ ہوگا ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {و مبشر برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد } اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ۔اس آیت سے معلوم ہوا عیسی علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اپنی قوم میں کرتے تھے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین } بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتا ب اللہ دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے { یا یھا الناس قد جاء کم برھان من ربکم } اے لوگوں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی ۔ اللہ عزوجل ایک جگہ اور ارشاد فرماتا ہے { یایھا الناس قد جاء کم الرسول بالحق من ربکم فامنو خیرلکم }۔ اے لوگوں تمہارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو ۔ { قل بفضل اللّٰہ و برحمتہ فبذٰلک فلیفرحوا } اللہ تبارک و تعالی کے فضل و کرم پر خوشیاں مناؤ ۔ برادران اسلام حضور علیہ السلام کی پیدائش سے زیادہ اور کیا فضل و کرم ہوگا ۔ ارشاد ربانی ہے { ذکرکم بایام اللہ } لوگوں کو اللہ کے دن یاد دلاؤ ۔ محترم حضرات ! اللہ کے نزدیک اور عاشق رسول کے نزدیک اُمت محمدیہ کے نزدیک پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت سے بڑھ کر کون سا دن ہوگا۔
خالق کائنات ایک جگہ ارشاد فرماتا ہے { واما بنعمۃ ربک فحدث} اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو۔ سرکار دو رعلم کی ذات اقدس سے زیادہ نعمت انسانیت کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے منبربچھاتے وہ اس پر قیام کر کے نعت اقدس سناتے ۔ مذکورہ بالا حدیث و آیات سے ثابت ہوا کے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش منانا ، ولادت نبی کا ذکر کرنا سنت الہیہ ہے ۔ عیسی علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ صحابہ کرام کا طریقہ ہے ، نعت نبی کے چرچہ کا حکم اللہ تبارک وتعالی دیتا ہے ۔ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوگی ۔ اللہ کا فرمان ہے لوگوں کو اللہ کا دن یاد دلاؤ جس دن حضور پیدا ہوئے اس سے بڑھ کر کون سا دن ہو سکتا ہے ۔ ثابت ہوا کہ عید میلا دالنبی منانا قرآن و حدیث کے مطابق ہے ۔ ساری دنیاکے وہابی ، دیوبندی کے لئے کھلاچیلنج ہے اور ان کے لئے بارہ سو گیارہ روپئے (۱۲۰۱۱) کا انعام ہے۔ اگر ثابت کردیں کہ حضور علیہ السلام کی ولادت اور بعثت رحمت نہیں یا یہ ثابت کردیں کہ قرآن مجید میں مجلس میلاد مبارک منع فرمایا ہے صرف ایک ہی آیت پیش کردیں ۔ سارے وہابی دیوبندی کے لئے چیلنج ہے ثابت کردو اور انعام حاصل کرو ۔ قرآن ارشاد فرماتا ہے { قل ھاتو ا برھانکم ان کنتم صادقین }۔