سب سے گھٹیا کافر
جہاں میں کوئی بھی کافر سا کافر ایسا ہے
جو اپنے رب پہ سفاہت کا داغ لے کے چلے
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے { ایا للّٰہ و اٰیتہٖ و رسولہ کنتم تستھزون لا تعتذرواقد کفر تم بعد ایمانکم } کیا اللہ اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے ہو ، بہانہ نہ بناؤ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ۔ آیت مذکور سے ثابت ہوگیا کہ دیوبندی کا فر ہیں کیونکہ حضور علیہ السلام کی شان میں ٹھٹھا کیا اور کہا کہ سرکار تو مر کر مٹی میں مل گئے (معاذ اللہ ) سرکار کو اپنے پیٹھ پچھے کا علم نہیں تھا ۔ حضور علیہ السلام کا علم شیطان سے کم ہے ( معاذ اللہ صد بار معاذ اللہ ) حسام الحرمین میں علماء حرمین شریفین نے فرمایا { ھولاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام من شک فی کفرہم وعذابہم فقد کفر } جس نے وہابی دیوبندی کے بارے میں ان کے کفر عذاب کے بارے میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔
اعلیٰ حضرات امام احمد رضا فاضل بریلوی فتویٰ رضویہ جلد ششم میں فرماتے ہیں کہ دیوبندی وہابی کی صحبت ہزار کافروں سے زیادہ مضر ہے کیوں کہ یہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہے اور رسول کو گالیاں دیتا ہے ۔ اپنے آپ کو متقی کہلاتا ہے ان سے میل ملاپ زہر قاتل ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ دیوبندی کا فر ہیں ، لیکن ایسا کافر کہ ساری دنیا کا کافر اس سے شرماجائے ۔ کیونکہ دنیامیں سب سے زیادہ گھٹیا کافر یہی ہیں ۔ دنیا میں جتنے کافر ہیں سب کی زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ گھٹیا کافر ، دیوبندی وہابی نظر آتے ہیں ۔ کوئی بھی کافر اپنے رب پر عیب نہیں لگاتا ۔ پتھر کا بت پوجنے والا کافر جب بت کے سامنے سر جھکا تا ہے تو اس کو ہر عیب سے پاک سمجھتا ہے اس کی توہین برداشت نہیں کرتا ۔ درخت کو پوجنے والا جب درخت کے سامنے سر جھکا دیا تو درخت کا احترام دل وجان سے کرنے لگتا ہے ۔ زہریلے سانپ کو پوجنے والا جب اس کو پوجتا ہے تو اس کی توہین برداشت نہیں کرتااور اسے ناگ راج کہتا ہے لیکن یہ دیوبندی اور وہابی ایسا گھٹیا کافر ہے جو اپنے رب پہ بھی جھوٹ بولنے کا عیب لگاتا ہے جس کے سامنے سر جھکاتا ہے اس کو ہر عیب سے بری نہیں سمجھتا اس سے زیادہ گھٹیاکافر کون ہوگا کہ جس کی صفت قدوس ہے اس پر بھی عیب لگاتا ہے ۔ اسی لئے اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ۔
وقوع کذب کے معنی پیٹ اور قدوس
ہٹے کے پھوٹے عجب سبز باغ لے کے چلے
تف وہابیت نہ کفرنہ اسلام سب پہ حرف
کافر ادھر کی ہے نہ ادھر کی ا دھر کی ہے
Post Views: 25