دیوبندی اور شفاعت رسول
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچالو آکر شفیع محشر تمہار ا بندہ عذاب میں ہے
کل قیامت کے دن کوئی کسی کو پہچانتا نہ ہوگا یہاں تک کہ باپ اپنے بیٹے کو نہ پہچانیں گے ہر ایک کو اپنی ہی فکر لگی ہوگی ہرایک جماعت تمام پیغمبروں کے پاس جائیں گی ہر ایک سے یہی جواب ملے گا { اذھبوا الی غیری } ہر ایک کو اس وقت اپنی ہی جان کی پڑی ہو گی ۔ ایسے وقت میں سرکار ِ کائنات شفیع محشر ، حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم شاہی کروفر کے ساتھ میدان محشر میں جلوہ افروز ہوں گے ۔ اہل سنت والجماعت کی زبان پر یہی ہوگا ۔
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچالو آکر شفیع محشر تمہارا بند ہ عذاب میں ہے
حضور علیہ السلام ملاحظہ فرمائیں گے کہ میری گنہگار امت میری سفارش چاہتے ہیں ، میرے دامن میں پناہ چاہتے ہیں ۔ حضور علیہ السلام اپنی امت کی بخشش کے لئے اپنی نورانی پیشانی بارگاہ خداوندی میں جھکادیں گے کیوں کہ شفاعت کبریٰ کا سہرا حضور علیہ السلام کے ہی سر ہے ۔ رحمت الہیٰ جوش میں آئے گی ۔ رب تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب سے یوں ارشاد فرمائے گا ۔ {یا محمد ارفع راسک قل تسمع سل تعطی واشفع تشفع } اے محبوب اپنے سر کو اٹھاؤ کہو کیا کہتے ہو تمہاری بات سنی جائے گی ۔ سوال کرؤ تم کو عطا کیا جائے گا ۔ سفارش جس کی بھی کرو قبول کی جائے گی ۔ اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میںحضور عرض کریں گے ۔ اے میرے پرور دگار میرے غلاموں کو بخش دے ، اے میرے مالک جو میرے دامن سے آس لگائے بیٹھے ہیں ان کو بخش دے، اے میرے خالق جو مجھے شفیع محشر کہتے ہیں ان کو بخش دے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرمائے گا اے میرے محبوب غم نہ کرؤ میں نے تمہارے غلاموں کو بخش دیا ۔ اب اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ دیوبندی اور وہابی کس سے سفارش چاہتے ہیں ۔ آج تک تو سرکار مدینہ کو شفیع ہونے سے انکار کیا ، ان سے مدد مانگنے کو شرک بتایا کل میدان محشر میں پتہ چل جائے گا ۔ اسی لئے تو امام عشق و محبت اعلٰحضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں ۔
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے
منکر آج ان سے التجا نہ کرے
Post Views: 56