اسلام اور عورت 

اسلام اور عورت
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیّدِنَا وَ مَولٰنامُحَمَّداً
صلیَّ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَسَلّم عَلَی الْعٰلمِینَ
جَمِیْعاً اَقَامَہ یَوم القَیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتلوثین
الخطاِّئِینَ الْھَالِکِیْنَ شَفِیْعاً امَّابَعَدُ فَقَدْ قَالَ
اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید اعوذ باللّٰہ من
الشیطان الرجیم الرّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النسآء
صدق اللہ العظیم و بلغنا رسولہ الکریم
چمنستان رضوی کے مہکتے پھولو، شمع رسالت کے پروانوا، حیدر کرار کے شیدائیو، غوث اعظم کے عقیدت مندو ، غریب نواز کے فدائیو، مرکز اہلسنت فاضل بریلوی کے متوالو آئیے سب سے پہلے سبز گنبد میں آرام فرمانے والے آقاسید الثقلین،نبی الحرمین ، امام القبلتین ، سید ابرار و اخیار شہنشاہ ذی وقار کائنات کے اولیں فصل بہار، رہبر اعظم ، قائد اعظم ،نیر اعظم ، سیاح لامکاں مالک انس وجاں ، حبیب پروردگار ، جناب احمد مجتبی محمد مصطفی کے دربار عالی شان میں نہایت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں ۔ {اللھم صلی علیٰ سیدنا و مولٰنا محمدٍبارک وسلم صلاۃً وسلاماً علیک یا سیدی یارسول اللہ }
ہیںعورت کے رنگ بے شمار      تیرے آنسو کے ہیں کتنے روپ
کبھی کلی کبھی  پھول کبھی خار       کبھی شبنم کبھی  طوفان کبھی آبشار
برادران اسلام ہر مقرر ہر واعظ خطبہ مسنونہ کے بعد کسی نہ کسی آیت مقدسہ یا حدیث پاک کو اپنا عنواں سخن بناتا ہے ۔ اسی قانون اور ضابطہ کے تحت میں نے قرآن مقدس کی ایک آیت کریمہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے ۔{ الرّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النسآء} یعنی اللہ تعا لیٰ نے مردوں کو عورتوں پر طاقت ور بنایا ۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے ، زمانہ کا مشاہدہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں مرد حاکم رہا ہے اور عورت محکوم ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء کرام مبعوث فرمایا سب کے سب مرد تھے نبوت کا تاج کسی عورت کے سر پر نہ رکھا، تاریخ اس بات پر شاہد ہے عورت مرد کا ایک حصہ ہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے عورت کو بنایا اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا { الرّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النسآء} مردافسر ہے عورت پر ۔ اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کہ سعد بن ربیع نے اپنی بیوی کو کسی غلطی پر ایک طمانچہ مارا تو حضر ت سعد بن ربیع کے سسر سرکار مدینہ  علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار عالی شان میں شکایت لے کر گئے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ مرد افسر ہے عورتوں پر ۔