عورت کی آواز
عورت کی ہر چیز عورت ہے اس کو غیر مردوں سے بچانا چاہیئے عورت کی آواز بھی عورت ہے ۔ تعلیم یافتہ عورتیں رونق اسٹیج ہوتی ہیں ۔ مشاعروں اور محفلوں میں اپنی سُریلی اور دلکش آواز سے لوگوں کے دلوں کے لبھاتی ہیں ۔ بے حیائی اور بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں جو کہ نا جائز ہے۔ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہلاتی ہیں اور رونق محفل ہونا باعث فخر سمجھتی ہیں ۔ اس معاملے میں قوالہ صاحبہ دو قدم آگے نظر آتی ہیں ۔ اپنے ہم جولیوں کے ساتھ رونق اسٹیج ہوتی ہیں ، ڈھول اور باجے کے ساتھ قوالی گاتی ہیں اور اپنے آپکو خواجہ اور غوث کی دیوانی کہلاتی ہیں ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو خواجہ اور غوث کی دیوانہ ہوگی کیا وہ خواجہ اور غوث کے نقش قدم سے ہٹ کر چلے گی نہیں اور بالکل نہیں ، خواجہ اور غوث کے کردار کی ایک جھلک بھی تم میں نہیں پائی جاتی پھر اپنے کو غوث اور خواجہ کی دیوانی کہلانے میں شرم نہیں آتی ؟
سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا مرد اورعورت پر فرض ہے تاکہ حق و باطل کو پہچان سکے ۔ اچھے برے کی تمیز کرسکے ۔ عورتو! میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا تم نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ رونق اسٹیج بنو، کیا تم نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ قرآن کی مخالفت کرو؟ کیا تم نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ روشِ اسلام سے ہٹ جاو ؟ اگر نہیں تو پھر تمہیں شرم آنی چاہیے اور اپنی زندگی کو اسلامی طریقہ پر گذارنا چاہیئے۔
تو حجاب میں تو فتنہ ہے دفن دیکھوں تیرا فتنہ مانگوں پہ دعا
تو ہوتی عیاں فتنہ ہے آشکار ربنا وقنا عذاب النار
Post Views: 31