دنیاوی تعلیم
آج پوری دنیا میں مغربی تہذیب و تمدن پھیل رہا ہے انگریزی تہزیب اپنا دامن پھیلا رہی ہے انگریزی تعلیم عام ہوگئی ہیدینی تعلیم سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں۔ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینا باعث فخر سمجھتے ہیں ، اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سے پڑھانا اپنا وقار سمجھتے ہیں ، آج سماج کے لوگ دینی تعلیم سے دور ہو رہے ہیں ، دینی تعلیم کو دقیانوسی تصور کرتے ہیں، اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے دور رکھتے ہیں ، اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلانے کی کوشش نہیں کرتے لیکن انگریزی تعلیم دلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ انگریزی تعلیم دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، انگریزی تعلیم دلانے کے لئے ڈونشن کے نام پر لاکھوں روپئے رشوت دیتے ہیں ، انگریزی تعلیم دلانے کے لئے ماوئیں اپنے بچوں کو لیکر کرسچن اسکول کے سامنے گھنٹوں کھڑی رہتی ہیں ، ہر روز اپنے بچوں کو دولھا کی طرح سجا کر اسکول پہنچاتی ہے اور بچوں کو لینے کے لئے اسکول پہنچ جاتی ہے ۔برادران ملت اسلامیہ دینی تعلیم کے لئے کوئی تزک و احتشام نہیں ، کوئی شان و شوکت نہیں ، دینی تعلیم کے لئے کوئی فکر نہیں ، دینی تعلیم کے لئے کوئی کوشش نہیں کسی طرح اپنے بچوں کو قرآن شریف کا ناظرہ پڑھادینا ہی اعلیٰ دینی تعلیم تصور کرتے ہیں ۔ جب ہمارا ماحول یہ ہوگا ، جب ہمارا کردار یہ ہوگا ، دنی تعلیم سے ہم دور ہوں گے تو ہمارے سماج سے برائیاں کیسے دور ہوسکتی ہے ہمارے سماج کی اصلاح کیسے ہوسکتی ہے جب ہم کو دینی تعلیم نہیں ہوگی تو ہم حلال و حرام کیسے پہچان سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روز بروز گناہوں کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے ۔
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو
Post Views: 42