نوجوان کا کردار
آج ہمارے نوجوان اسلامی ماحول سے کوسوں دور ہیں ۔ اسلامی ماحول سے انکا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ہمارے نوجوان اسلامی ماحول کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں ۔ اسلامی وضع قطع بنانے سے دور بھاگتے ہیں ۔ اسلامی تہذیب سے دور بھاگتے ہیں ۔ اسلامی ماحول میں رہنا پسند نہیں کرتے ۔ ہمارے نوجوان ایسالباس پہنتے ہیں جو اسلامی لباس نہیں ہوتا ایسا لباس پہنتے ہیں جس سے فرنگی نظر آتے ہیں ۔ ایسے لباس پہنتے ہیں جو بالکل انگریز نظر آتے ہیں ۔ ایسے لباس پہنتے ہیں جو بالکل اسلام کے سپوت نظر نہیں آتے ایسے لباس کے عادی ہوگئے ہیں جو لباس مرد و زن کے اندر مشترک ہوکر رہ گیا ہے ۔ ہمارے نوجوان ایسے ہی لباس کو پہننا فخر تصور کرتے ہیں ۔ایسے ہی لباس پہننا ترقی سمجھتے ہیں ۔ جس کو یہود و نصاریٰ کا لباس کہا جا سکتا ہے ۔ ہمارے نوجون عریانیت و فحاشیت کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں ۔ ہمارے نوجوان غیر محرم عورت سے میل جول رکھنا معیوب نہیں سمجھتے ۔ ہمارے نوجوان اسلامی اشعار کو اپنانا اہی توہین سمجھتے ہیں ۔ روزانہ صبح اتھ کر سنت رسول کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی ڈارھی کو صاف کرتے ہیں اپنے چہرے پر استرا پھیر کر ڈارھی کا صفایا کردیتے ہیں ۔ ڈراھی کے ساتھ ساتھ مونچھ کو بھی رخصت کر دیتے ہیں ۔ پھر شکل ایسی ہوجاتی ہے کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ عورت کا چہرہ ہے یا مرد کا ، کسی مسلم کا چہرہ ہے یا مشرک کا ۔ ہمارے مسلمان نوجوانوں کو ذرابھی احساس نہیں کہ روزانہ ڈارھی منڈاکر حرام کاری کا مرتکب ہوتے ہیں ڈراھی مندانا بالاتفاق حرام ہے ڈراھی مندانا سخت گناہ ہے ڈراھی منڈانا اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرنا ہے ۔ اپنے چہرے سے سنت رسول کو مٹانا ہے ۔ڈراھی منڈانا غیرت مردانگی کے خلاف ہے ۔ ڈراھی منڈانا اشعار اسلام کے خلاف ہے لیکن ہمارے نوجوانوں کو ذرا بھی احساس نہیں ہے ۔ ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ہے ۔ ذرابھی نبی کا پاس نہیں کہ مرنے کے بعد اللہ و رسول کو کیا جواب دیں گے ۔ڈاکٹر اقبال نے سچ کہا ہے ۔
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
Post Views: 31