بچی کا نام فضہ رکھنا

سوال

بچی کا نام فضہ رکھنا کیسا؟

جواب

فضہ ف کے زیر اور ض کی تشدید کے ساتھ، نام رکھنا بالکل درست ہے، اس کا معنی ہے: چاندی۔ اور یہ حضرت سیدہ خاتون جنت بی بی فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنھا کی کنیز کا نام ہے۔

فضہ کے معنی کے حوالے سے القاموس الوحید میں ہے: الفِضَّة: چاندی۔ (القاموس الوحید، باب الفاء، صفحہ 1239، مطبوعہ لاہور) ‌

اس کی لغت بیان کرتے ہوئے تکملۃ الاکمال میں ہے: ”أما فضة: بكسر الفاء و تشديد الضاد المعجمة فهي ۔۔۔ مولاة أهل البيت عليهم السلام“ ترجمہ: بہرحال فضہ: فاء کی زیر اور نقطے والی ضاد کی تشدید کے ساتھ (فِضَّہ) ہے، تو وہ اہل بیت علیھم السلام کی آزاد کردہ لونڈی ہیں۔ (تكملة الإكمال، باب فضة و قصة، جلد 4، صفحہ 489، مطبوعہ سعودیہ)

اسد الغابۃ میں ہے “فضة النوبية جارية فاطمة الزهراء بنت رسول اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ” یعنی: فضہ نوبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنھا کی کنیز ہیں۔ (اسد الغابۃ، جلد 7، صفحۃ 230، دار الكتب العلمية، بیروت)