انٹرنیشنل پیر

برادران اسلام ! آج جگہ جگہ پیر نظر آرہے ہیں ۔ آج گلی گلی میں پیر نظر آرہے ہیں ۔ گاؤں گاؤں میں پیر نظر آرہے ہیں ۔ شہر شہر میں پیر نظر آرہے ہیں ۔کوئی بمبو شاہ پیر صاحب ہیں ۔ کوئی بندل شاہ پیر صاحب ہیں ۔ کوئی چھوٹے شاہ پیر صاحب ہے ۔ پیر صاحب بنے ہوتے ہیں نماز ادا نہیں کرتے ۔ لوگوں کو حلقہ مریدی میں داخل کررہے ہیں ، فرائض وسنن سے کوئی واسطہ نہیں ۔ پیر صاحب بنے ہوئی ہیں مسائل دینیہ سے کوئی وافقیت نہیں ۔ پیر صاحب ہیں پابندیہ شریعت سے کوئی مطلب نہیں ۔ غیر محر م عورتوں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ۔ پیر صاحب ہیں اپنے سامنے عورتوں کو بیٹھا کر رکھتیں ہیں اپنے آپ کو پیر کہلاتے ہیں پابندی شرع کوئی کام نہیںکرتے اگر ان سے پوچھ لیا جائے تو آسان لفظوں میں جواب دیتے ہیں۔ جاؤ میاں تم کیا سمجھو گے طریقت الگ ہین اور شریعت الگ ۔ برادران ملت اسلامیہ ہمارے سماج کا حال یہ ہے ہمارے معاشرے کاحال یہ ہے ۔ لوگ اندھا دھند ایسے پیروں کی اتباع کرتے ہیں حالت حاضرہ کا جائزہ لیجئے تو کچھ پیر آپ کو انٹر نیشنل بھی نظر آئیں گے ۔ ایسے پیروں کو سیٹھ لوگ گھیرے میں لئے رہتے ہیں ۔ غریبوں کی وہاں تک رسائی نہیں ۔ غریب وہاں تک نہیں پہونچ سکتے، غریب اپنی حثیت کے مظابق ان کی خدمت نہیں کرسکتے ، کبھی لندن کے دورے پر ہیں کبھی پاکستان کے دورے پر ہیں ۔ کبھی امریکہ کے دورے پر ہیں تو کبھی افریکہ کے دورے پر ، اگر کوئی غریب دعوت کرنا چاہے تو ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ ورنہ کم از کم ٹرین کے اے سی کلاس کا ٹکٹ تو ہونا ہی چاہیئے ورنہ پیر صاحب کے شایان شان نہیں ۔ بچارہ غریب تو اس بار کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔ پھر اپنے پیر صاحب کو اپنے غریب کھانے پر کیسے بلا سکتا ہے ۔ دعوت دینے کی تمنا دل میں ہی رہ جاتی ہے ۔برادران اسلام پیر ہو تو غوث اعظم کی طرح درخت کے پتے کھا کر بھی دین و ملت کی خدمت کرئے ۔ پیر ہو تو خواجہ غریب نواز کی طرح جنگلوں اور بیابانوں کا پیدل سفر کرکے کفر و شرک کو مٹا کر اسلام کی روشنی بکھیرے ، پیر ہو تو حضرت علی کی طرح بھوکے اور پیاسے رہکر بھی اللہ کی راہ میں جھاد کرئے پیر ہو تو مخدوم سمنانی کی طرح دین واسلام کے خاطر تخت و تاج کو لات مارے ، پیر ہو تو مفتی اعظم ہند کی طرح بیل گاڑی میں سفر کرکے دیہاتیوں کے دلوں کو عشق رسول سے منور کرے ۔