غوث کا دامن

برادران ملت اسلامیہ ہم برے زور و شور سے نعرہ لگاتے ہیں غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم جذباتی انداز میں نعرہ لگاتے ہیں خواجہ کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ ہم جوش میں نعرہ لگاتے ہیں رسول کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم پُر تپاک انداز میں نعرہ لگاتے ہیں اولیاء کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ کیا ہم نے غور کیا کہ رسول کے دامن میں پناہ لینے کا کیا مطلب ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ غوث کے دامن سے لپٹ جانے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا خواجہ کے دامن سے وابستہ ہوجانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اولیاء کے دامن سے وابستہ ہوجانے کا مطلب کیا ہے ؟ جو رسول کے دامن میں پناہ لے لیتے ہیں وہ پابندی شریعت ہو جاتے ہیں ۔ جو غوث کے دامن میں لپٹ جاتے ہیں دنیا اس کی ٹھوکر میں ہو جاتی ہے ۔ جو خواجہ کا دامن تحام لیتے ہیں ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباع شریعت میں گزرتا ہے ۔ جو اولیاء کے دامن سے وابستہ ہو جاتے ہیں وہ فرائض و سنن کے پابند ہو جاتے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کے دامن سے وابستہ ہو گئے تو صدیق اکبر ہوگئے ۔ ایک چور غوث اعظم کے دامن سے وابستہ ہوگئے تو ابدال ِ وقت ہوگئے ۔ نظام الدین اولیاء خواجہ کے دامن سے وابستہ ہو گئے تو مخدوم جہاں ہو گئے۔
ہمارے چہرے پہ ڈارھی نہیں اور ہم نعرہ لگاتے ہیں غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم مسجد میں جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں اور ہم نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم رسول کا دامن نہیں چھو ڑیں گے ۔ ہم رمضان کے روزے بلا عذر چھوڑ دیتے ہیں اور ہم نعرہ لگاتے ہیں کی خواجہ کا دام نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم فرائض کو فراموش کر جاتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ رسول کادامن نہیں چھوڑیں گے ۔ سنتوں کو ترک کر بیٹھے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ رسول کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ قرآن کی تلاوت چھوڑیں بیٹھے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ رسول کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔ برادران اسلامیہ مجھے کہنے دیجئے کہ ہم نے رسول کا دامن پکڑا ہی نہیں ہے تو چھوڑنے کا سوال کہاں ہے ۔ ہم نے غوث کا دامن پکڑا ہی نہیں تو چھوڑنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتاہے ۔ ہم نے خواجہ کادامن پکڑا ہی نہیں توچھوڑنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ جس دن ہمارے ہاتھ میں دامن رسول آگیا ، جس دن ہم دامن رسول سے وابستہ ہوگئے اس دن ہم نماز کے پابند ہو جائیں گے ۔ جس دن ہماریم ہاتھ میں دامن غوث اعظم آگیا اس دن فرائض کو ترک کرنا دور کی بات ہم سنت کو بھی نہیں چھوڑیں گے ۔ جس دن خواجہ کے دامن سے لپٹ گئے کوئی بھی کام خلاف شرع نہیں کریں گے جس دن دامن رسول سے وابستہ ہوگئے دنیا ہمارہماری ٹھوکر میں ہوگی۔
خلاف پیغمبر کسے رہ گزار کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
کہ ہرگز بمنزل نخوار ھد رسند یہ جہاں چیزہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں