انجیر کے فوائد
طبِ نبوی میں انجیر کے استعمال پر زور دیا گیا ہے، ایک روایت کے مطابق حضورﷺ کے پاس کہیں سے انجیر کے تھال کا تحفہ آیا، آپﷺ نے قریب بیٹھے صحابہ سے

فرمایا : کھاؤ بلاشبہ یہ جنت کا پھل ہے، اس میں سے کھاؤ یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
قرآن پاک میں سورۃ التین میں رب تعالی نے انجیر ، زیتون اورطورِ سینا کی قسم کھائی۔ اس سے انجیر اور زیتون کی طبی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مزاج انجیر کا گرم درجہ اول اور تر درجہ دوم ہے، پانچ سے سات دانے تک کھائی جاسکتی ہے۔
طبِ قدیم میں انجیر کے فوائد:
۱۔ پیٹ نرم کرتی ہے، یعنی براز کو اعتدال میں لاتی ہے۔
اخلاط ( صفراء، سودا، بلغم) کوپکاتی ہے ( اگر یہ نہ پکیں تو مختلف بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں)۔
ریشہ کو پتلا کر کے خارج کرتی ہے۔ ریشہ خارج کرنے کے لیے اس کا جوشاندہ کھانسی میں دیتے ہیں۔
پیشاب لاتی ہے ،نیز تازہ انجیر کی افادیت خشک کی نسبت قوی ہوتی ہے۔
پسینہ لاتی ہے یعنی فضلات ِبدن کو خارج کرتی ہے اور بخار میں مفید ہے۔
اس کا استعمال چیچک میں بے حد مفید ہے۔
تلی کے ورم کو دور کرتی ہے۔
جگر اور تلی میں پیدا شدہ رکاوٹوں کو کھولتی ہے۔
گردہ اور مثانہ کی پتھری نکالتی ہے۔
انجیر کو دودھ میں پکا کر پھوڑوں پر باندھتے ہیں۔
انجیر کو گرم پانی میں بھگو کر رکھیں، چند گھنٹے بعد جب اچھی طرح پھول جائے ، پھر کھائیں تو قبض کھولتی ہے۔
دانتوں کے لیے مفید ہے ۔
دماغ کو قوت دیتی ہے۔
بدن کو فربہ کرنے کے علاوہ چہرے کا رنگ نکھارتی ہے۔
۔ منہ کی بدبو دور کرتی ہے۔
بالوں کو دراز کرتی ہے۔
تازہ انجیر توڑنے سے قطرے نکلتے ہیں جو برص پر لگانے سے داغوں کو دور کرتے ہیں۔
پیاس کم کرتا ہے۔
خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرتا ہے۔
کمر کے درد کو کم کرتا ہے۔
میتھی کے بیج اور انجیر کو پانی میں پکائیںپھر شہد ملا کر پئیں تو کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے۔
کیا ذیابیطس میں مبتلا افراد انجیر کھا سکتے ہیں؟
جدید تحقیق کے مطابق انجیر میں ریشے (فائبر) زیادہ ہوتے ہیں جو ہارمون انسولین کے افراز میں مدد دیتے ہیں ۔کیا فشار الدم (بلڈ پریشر) میں مبتلا افراد انجیر کھا سکتے ہیں؟
انجیر میں پوٹاشیم کی وافر مقدار ہے جو نا صرف فشارالدم میں مفید ہے بلکہ خون کی نالیوں کو بہتر کرتی اورچربی کی مقدار کم کرتی ہے۔ یاد رہے کہ گردے کے مریض اصلاح کے ساتھ استعمال کریں کیونکہ پوٹاشیم گردے کو اذیت دیتا ہے۔