اس وقت دنیا کی کل آبادی 8ارب ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد 2ارب سے زائد ہے ۔مسلمان اس وقت دنیا میں جتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں ماضی میں کبھی بھی ان کی اتنی تعداد نہیں رہی ۔صرف تعدادہی نہیں وسائل کی فراوانی بھی ہے ۔ مسلمان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی بن چکے ہیں ۔ یعنی دنیا کی 25 فیصد آبادی کا مذہب اسلام ہے۔اس طرح عیسائیت کے بعد اسلام 2ارب آبادی پر مشتمل دوسرا بڑا مذہب ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ براعظم ایشیا اور افریقہ کے 26 ممالک کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔اگر عسکری قوت کی بات کی جائے تو57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے یہ افواج ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں بلکہ ان میں سے پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود عالم اسلام ضعف واضمحلال ،بے عملی کاشکار اور خاک کا ڈھیر ہے ۔جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے اپنے بھائیوں کی مدد بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔بات اگر ہمارے پڑوس مقبوضہ جموں کشمیر سے شروع کی جائے تو یہاں کی حالت یہ کہ ہمارے کلمہ گو کشمیری بھائی75برس سے دیوی اور دویوتاؤں اور گاؤ ماتا کا پیشاب پینے والے ہندؤوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے تڑپ رہے اور سسک رہے ہیں ۔ بھارت میں بھی مسلمانوں کی یہی کیفیت ہے ۔ مسلمانوں کےلئے دنیا میں کہیں بھی جائے پناہ نہیں ہے ۔ شہریت سے محروم برمی مسلمان پڑوسی ممالک میں دربدر خاک چھاننے پر مجبور ہیں ۔
ہمارے فلسطینی بھائی سب سے زیادہ درماندہ ہیں، اسرائیل کے مظالم کی چکی میں پس رہے ، خاک میں تڑپائے جارہے اور آگ میں جلائے جارہے ہیں ۔ حالیہ جنگ کی ابتدا 8اکتوبر کو بظاہر حماس کی طرف سے اسرائیل پر بیک وقت 500میزائل فائر کرنے سے ہوئی ہے لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو حماس کا یہ عمل گزشتہ پون صدی سے جاری اسرائیل کے مظالم کا ردعمل ہے ۔ اس کے بعدچاہئے تو یہ تھا کہ اسلامی دنیا غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔
وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے جو اسرائیلی افواج 8اکتوبر سے جاری رکھے ہوئے ہے ۔غزہ آگ کا دھکتاہوا الاؤ بن چکا ہے جس میں فلسطین کے مسلمان جل رہے ہیں ۔ طرفہ تماشہ یہ کہ امریکہ سمیت پورا یورپ اسرائیل کو تھپکیاں دے رہا ہے امریکی صدر جوبائیڈن تو اپنے ناجائز بچے کا حوصلہ بڑھانا کےلئے اسرائیل کا دورہ بھی کرچکے ہیں جبکہ دوسری طرف عالم اسلام محض بیانات پر ہی اکتفا کررہا ہے حالانکہ اسرائیل ایک جارح ملک ہے جو ایک خاص نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اور وہ نظریہ ہے مسجد اقصی کی شہادت ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور گریٹر اسرائیلی ریاست کا قیام ۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مذہبی بنیادوں پر فلسطینی مسلمانوں کا وجود صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہتا ہے ۔ یعنی یہ جنگ معاشیات یا اقتصادیات کی اجارہ داری کی نہیں بلکہ اسرائیل اسے کفر واسلام کی جنگ سمجھتے ہوئے لڑرہا ہے ۔
آج اگر مسلمان خس وخاشاک کی مانند ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔ جناب رسول مقبول کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کی صورت میں جلوہ گر ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا ” دنیا کی قومیں مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے تیار دسترخوان پر کوئی میزبان اپنے مہمان کو کھانے کی دعوت دیتا ہے“ ۔
یہ کیفیت ہم اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ استعماری عزائم رکھنے والی ہر قوم حسب استطاعت اپنا حصہ وصول کرنے ، مسلمانوں کو ذبح کرنے ، کاٹنے اور مٹانے میں مصروف ہے۔ یقیناً یہ دور حاضرہمارے لئے اس نوآبادیاتی جبر کا منطقی نتیجہ ہے جو مسلم ممالک و اقوام نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران مختلف آقاو¿ں کی غلامی میں گزارا ہے۔ہماری سیاسی صورتحال یہ ہے کہ 57 کے لگ بھگ حکومتیں اور فوجیں رکھنے کے باوجود ہم اپنے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ہمارے معاشی وسائل ہمارے کنٹرول میں نہیں ، اور ہماری تہذیب و ثقافت مسلسل ان یلغار کی زد میں ہے جس کے باعث ہم اپنی نئی نسل کے عقیدہ و ایمان کے حوالہ سے بھی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ آج دینی اقدار و روایات کے تحفظ کی خاطر آواز اٹھانا بتدریج ”جرم“ سمجھا جانے لگا ہے۔ اور معاملہ جناب رسول اکرم کے اس ارشاد گرامی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے کہ دین کی بات کرنا ” جلتے انگارے کو ہاتھ میں لینے “ کے مترادف ہو جائے گا۔
ان حالات میں رجوع الی اللہ،دعاؤں کی کثرت، عمل خیر،اور اپنے اندر اسلامی غیرت وحمیت پیدا کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔اسلئے کہ جب اسلامی غیرت وحمیت پیدا ہوگی تو ہم سے ہر ایک کو اپنے مظلوم بھائیوں کے دکھ درد کااحساس ہوگا ۔ اس کے بعد جب شمع سے شمع جلے گی تو ہماری طاقت مجتمع ہوجائے گی اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہمارے لئے آسان ہوجائے گا ۔آخری بات یہ ہے کہ ہم اللہ سے لولگائیں اس سے دعائیں اور التجائیں کریں کیونکہ اصل قوت وہی ہے ۔اے اللہ دنیا ظلم سے بھر گئی ہے اور مسلمان بھی تیرے ہی بندے ہیںتو ہماری مدد کر اے دو جہاں کے مالک۔۔۔ توہی ہمارا کار ساز ہے ۔
