
#معراج مصطفے
از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی
سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْریٰ بِعَبْدِہِ لَیْلاًمِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلیٰ الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلیْم ن (پارہ ۱۵،رکور ۱۴)
ترجمہ: پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا اور دیکھتا ہے۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضور سیدِ عالم ﷺ کو معراج شریف عطا ہوئی یہ ایک عظیم معجزہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے معراج مصطفی ﷺسے انکار نہیں کیا جا سکتا معراج سے انکار کرنا گویا قرآن مقدس کو جھٹلانا ہوگا حضور سرورِ کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ مخلوق میں یہ مقام کسی کو میسر نہیں ہے آپ ﷺ کو معراج حالت بیداری میں جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی سید المرسلین ﷺ کو ۲۷؍رجب المرجب کو معراج ہوئی مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصہ میں تشریف لے جانا نص قرآنی سے ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے۔
حضور سیدِ عالم ﷺ نے بیت المقدس میں انبیاء کرام کی امامت فرمائی جمہور علماء اسلام کا عقیدہ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی کثرت اس پر معتقد ہیں شب معراج میں نبی دو جہاں ﷺ کا سینہ اقدس چا ک کیا گیا جس میں بے شمار حکمتوں میں ایک حکمت تو یہ ہے کہ آپ کے قلب منور میں علوم و معارف کی ایسی مقدس طاقت پیدا ہو جائے جس سے عالم بالد میں جانے اور اس کے عجائبات دیکھنے اور خاص طور سے دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونے ہونے میں کوئی دشواری پیدا نہ ہو حدیث شریف میں ہے کہ سرور کائنات ﷺ جب موسیٰ علیہ السلام کی قبر انور سے گزرے تو ملاحظہ فرمایا کہ وہ اپنی قبر مبارک میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں پھربیت المقدس میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی اور سب نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا فرمائی اس سے واضح ہوتا ہے حضور انور ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی۔
Post Views: 247