
قرآن و حدیث میں بیعت کا ثبوت
از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی
’’بیعت‘‘ لوازماتِ دین میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے جس کا گواہ خود قرآن اور حدیث کی تمام کتب ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے قبل اس کے کہ دین کے باقی لوازمات‘ نماز، روزہ، توحید وغیرہ کو سمجھے اور مدارجِ ایمان میں ترقی کرے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنا لازم تھا یعنی نبی ؐ پر ایمان لانے اور کلمۂ توحید زبان سے پڑھ لینے کے باوجود کوئی مسلمان مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا جب تک کہ وہ بیعت نہ کر لے۔ پس بیعت اقرارِ توحید و رسالت کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دی گئی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کوئی عمل بے حکمت اور بے سبب نہیں ہے اور ہر عمل میں اُمت کے لیے کوئی نہ کوئی رہنمائی کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ایمان کے زبانی اقرار کے ساتھ ہی بیعت کو لازم و ملزوم قرار دینا اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ نبی ؐ کے نورانی فیض کا حصول اور ان کی رہنمائی میں مدارجِ ایمان کی تکمیل بیعت کے بغیر ممکن نہیں اور اس بات میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کو اقرارِ توحید کے ساتھ لازم قرار دیا تو صرف اللہ کے حکم کے عین مطابق کیونکہ جن کے متعلق قرآن گواہی دے رہا ہے کہ وَ مَا یَنطِقُ عَنِ الہَوٰی۔
اِن ہُوَ اِلَّا وَحیٌ یُّوحٰی (النجم)
ترجمہ:’’اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ ان کا کلام تو صرف وحیٔ الٰہی ہوتاہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘ ان کا کوئی بھی عمل اپنی مرضی سے کیسے ہو سکتا ہے، یقیناًان کا ہر عمل بھی وحیٔ الٰہی کے مطابق ہی ہوگا اور یوں ہی بیعت بھی حکمِ الٰہی کے مطابق ہی ہوگی اور یقیناًتوحید و رسالت کے اقرار کی طرح انتہائی اہم اور دین کی تکمیل میں لازم ہوگی ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر مسلمان کے اقرارِ ایمان کے ساتھ ہی اس سے بیعت نہ لیتے۔ مزید برآں بیعت کا تعلق یقیناًسنتِ ھدیٰ سے ہے جن کا تارک منکرینِ اسلام میں شامل ہوتا ہے کیونکہ بیعت ان سنتوں میں شامل ہے جو دین کے احکام سے وابستہ ہیں اور جس کا ذکر قرآن میں بھی بڑے واضح الفاظ اور حکمت کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوقَ اَیدِیہِم ۚ فَمَن نَّکَثَفَاِنَّمَا یَنکُثُ عَلٰی نَفسِہٖ ۚ وَ مَ اَوفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیہُ اللّٰہَ فَسَیُؤتِیہِ اَجرًا عَظِیمًا ۔
ترجمہ:’’بے شک جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا اور جس نے پورا کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا تو وہ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔
اس آیتِ مبارکہ سے جہاں رسول اللہ ؐ کی عظیم ذات کا اعلیٰ ترین رُتبہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا عمل اللہ کا عمل ہے، ان سے تعلق اللہ سے تعلق ہے، ان سے بیعت اللہ سے بیعت ہے وہیں بیعت کے عمل کی عظمت اور فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے بھی منسوب کیا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت ان کے وسیلے سے اللہ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں۔ یوں بیعت لینے کا عمل صرف سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی نہ ہوئی بلکہ سنتِ الٰہی بھی ہوئی۔پورے قرآن میں دین کے کسی دوسرے جز اور عبادت کو اللہ نے اپنی ذات سے منسوب نہیں کیا سوائے درود پاک کے کہ ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ لیکن درود پاک اللہ کی سنت تو ہے لیکن نبی کی سنت نہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر درود نہ بھیجا۔ اور دیگر تمام عبادات سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہیں لیکن سنتِ الٰہی نہیں۔ پس بیعت دین کا وہ واحد جز ہے جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ثابت ہوئی اور سنتِ الٰہی بھی۔
بیعت لفظ ’’بیع‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ’’لین دین‘‘ کے ہیں۔ جب دو افراد ایک دوسرے سے لین دین کے معاملات طے کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ایک فرد ایک چیز دے گا مثلاً مال روپیہ وغیرہ تو دوسرا اس کے بدلے میں دوسری چیز مثلاً کوئی سامان یا مال دینے والے کی ضرورت کی کوئی شے وغیرہ دے گا جس کا وہ طالب ہے اور جس کو لینے کے لیے وہ مال دے رہا ہے، اس معاملے کے عہد کو بیع کہتے ہیں۔ بیعت بھی اللہ سے لین دین کے سودے کا نام ہے جس میں بیعت کرنے والا اپنا آپ اور اپنا سب کچھ جو درحقیقت پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا ہے، اللہ کے حوالے کرتا ہے اور بدلے میں اللہ کی رضا اور اللہ کی ذات کا طالب بنتا ہے۔ پس جس نے اللہ سے سودا ہی نہ کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرح، ان کے بعد ان کے خلفاء کی صورت میں کسی اللہ کے ولیٔ کامل کے وسیلے سے اللہ سے بیعت ہی نہ کی وہ اللہ سے کیسے اور کیا تعلق جوڑے گا، کیا دے گا اور کیالے گا۔
چونکہ بیعت اللہ سے ایک عظیم عہد ہے اور اس سے رشتہ جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اللہ نے اس عہد کو نبھانے کی سخت تاکید کی ہے اور اس کے توڑنے پر پُرسش کی تنبیہ بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَاَوفُوا بِعَہدِ اللّٰہِ اِذَاعٰہَدتُّم وَ لَاتَنقُضُوا الاَیمَانَ بَعدَ تَوکِیدِہَا وَ قَد جَعَلتُمُ اللّٰہَ عَلَکُم کَفِیلًا۔
ترجمہ:اور پورا کرو اللہ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور نہ توڑو اپنی قسموں کو انہیں پختہ کرنے کے بعد، اور تحقیق تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا۔اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بے شک ان وعدوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بیعت اللہ کی رضا کا اور مومنین کے دل کی تسکین کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ یہ ان کے اللہ سے رشتہ اور تعلق قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ فرماتا ہے: لَقَدرَضِیَ اللّٰہُ عَنِ المُؤمِنِینَ اِذ یُبَایِعُونَکَ تَحتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِہِم فَاَنزَلَ السَّکِینَۃَ عَلَیہِم (الفتح)
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو چکا جس وقت وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، پس اِن کے دِلوں میں جو کچھ تھا (اللہ نے) جان لیا، پھر ان پر خاص تسکین نازل کی۔
قرآن کے ساتھ ساتھ کثیر متفقہ علیہ احادیثِ مبارکہ جو تقریباً تمام معتبر کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہیں، بھی بیعت کے عظیم سنتِ رسولؐ ہونے کا ثبوت ہیں۔ آغازِ اسلام میں جب مدینہ سے کچھ وفود مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جن افراد نے پہلے سال دعوتِ حق کو لبیک کہا ان کی بیعت ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ کے نام سے اور دوسرے سال بیعت کرنے والوں کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ حضرت کعب بن مالکؓ اس بیعت کے متعلق فرماتے ہیں ’’جب وہ رات آئی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا تو ہم شروع رات میں سو گئے ۔ جب لوگ گہری نیند سو رہے تھے تو ہم اپنے بستروں سے اُٹھے حتیٰ کہ وادیٔ عقبہ میں اکٹھے ہو گئے اور کوئی دوسرا آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے گفتگو فرمائی اور دعوتِ اسلام دی۔ انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور قرآنِ پاک کی تلاوت فرمائی۔ یہ سن کر سب نے دعوت قبول کر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ اپنا دستِ اقدس بڑھائیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’تم اپنی قوم میں سے بارہ نقیب نکالو‘‘۔ ہم نے ہر گروہ سے ایک ایک نقیب نکالا اور سب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کی‘‘۔ (صحیح بخاری)
بیعت کی اقسام
بیعتِ اسلام: اسلام قبول کرتے وقت کلمۂ توحید و رسالت پڑھنے کے ساتھ مسلمانوں پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت بھی کرتے۔ یہ بیعتِ اسلام کہلاتی ہے۔
بیعتِ توبہ و تقویٰ: پچھلے گناہوں سے مکمل تائب ہو کر شریعت کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ قربِ الٰہی کی نیت سے تقویٰ اختیار کرنے کا عہد کرنا بیعتِ توبہ و تقویٰ کہلاتا ہے۔ اسی بیعت کے بعد روحانی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں اکثر بیعتِ اسلام میں ہی بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی شامل ہوتی تھی لیکن کثیر احادیث اس بات پر بھی شاہد ہیں کہ کئی مومنین اور مومنات نے قبولِ اسلام کی بیعت کے بعد بیعتِ توبہ و تقویٰ خصوصی طور پر علیحدہ سے بھی کی۔ موجودہ دور میں مسلمان مرشدِ کامل اکمل کے دستِ مبارک پر روحانی ترقی کے ذریعے قربِ الٰہی کے حصول کے لیے جو بیعت کرتے ہیں وہ بیعتِ توبہ و تقویٰ ہی ہوتی ہے۔
بیعتِ خلافت:جو بیعت مسلمان خلیفہ کے ہاتھ پر اس بات کی علامت کے طور پر کی جاتی ہے کہ ہم نے متفقہ طور پر اس خاص شخص کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا ہے۔ بیعتِ خلافت کہلاتی ہے۔ حضرت امام حسنؓ کے دور تک بیعتِ خلافت اور بیعتِ توبہ و تقویٰ اکٹھی رہیں لیکن بعد میں علیحدہ علیحدہ کر دی گئیں۔
4) بیعتِ سمع و طاعت: اپنے امام، خلیفہ یا مرشد کی ہر بات کو سننے اور ماننے کا عہد کرنا بیعتِ سمع و طاعت کہلاتا ہے۔ احادیث پاک سے اس بیعت کا بھی ثبوت ملتا ہے ۔
بیعتِ جہاد: اسلام کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے خلاف جہاد کا آغاز کرنے سے قبل اپنے امیر کے ہاتھ پر اپنی جان قربان کرنے کا عہد بیعتِ جہاد کہلاتا ہے۔ یہ بیعت بھی مسلمان لشکروں میں کافی دیر تک جاری رہی بلکہ اب بھی کچھ جہادی تنظیموں میں جاری ہے۔
بیعتِ تصوف: بیعتِ توبہ و تقویٰ کی ہی صورت ہے جو صوفیاء کرام کے اسے جاری رکھنے کی وجہ سے بیعتِ تصوف کہلانے لگی۔ اس کا مقصد بھی مرید کا تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کی نیت سے خود کو اپنے مرشد کے حوالے کرنا ہے جس کے بعد اس کا روحانی سفر شروع ہوتا ہے اور گزشتہ زندگی کے گناہوں سے تائب ہو کر تقویٰ یعنی قربِ الٰہی کی منازل طے کرتا ہے۔
بیعتِ اسلام اس وقت متروک ہو گئی جب خلفائے راشدین کے زمانے میں فتوحات بڑھنے سے بڑے بڑے علاقے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔کیونکہ اس وقت اس بات کا امتیاز اُٹھ گیا تھا کہ کون خالص ایمان لانے کی غرض سے دین میں داخل ہو رہا ہے اور کون محض خوف و غلبہ و شوکتِ اسلام کی وجہ سے۔ البتہ اس وقت بیعتِ خلافت رائج رہی جو اس خلیفہ کے ہاتھ پر کی جاتی تھی جسے متفقہ طور پر مسلمانوں کے امیر کے طور پر چنا جاتا تھا۔ دور دراز کے علاقوں کے معززین اپنے علاقہ کے تمام لوگوں کے نمائندہ کے طور پر حاضر ہو کر سب کی طرف سے بیعت کرتے۔ چونکہ خلفائے راشدین ہی اپنے عہدِ خلافت میں مسلمانوں کے امام، امیر اور خلافت و ولایتِ کاملہ پر فائز بھی ہوتے تھے اس لیے بیعتِ خلافت میں ہی بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی شامل ہوتی تھی اور مسلمانوں کا خلیفہ ہی ان کا فرمانروا بھی ہوتا تھا اور باطنی فیض رساں بھی، اور وہی ان کی روحانی منازل بھی طے کرواتا تھا۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مومنین کے لیے ظاہری فلاحی ریاست بھی قائم کی اور باطنی فلاح کا بھی اہتمام کیا۔ خلفائے راشدین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کامل ترین فیض اور قوت و اختیار کے حامل تھے اس لیے خلافت و نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری و باطنی فرائض بیک وقت نبھاتے رہے البتہ ان کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت میں اس بات کا امتیاز تھا کہ اہلِ شریعت کے لیے وہ صرف بیعتِ خلافت ہی تھی جبکہ اہلِ تقویٰ اور مومنین کے لیے وہ بیعتِ تقویٰ و توبہ بھی تھی اور سب کو اپنے امیر کا فیض نیتِ بیعت کے مطابق ملتا تھا جیسا کہ تمام احادیث کی کتب میں منقول ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور انہیں خلیفۃ الرسول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب تسلیم کیا اور بیعت کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے الفاظ یہ تھے ’’جب تک میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرنا‘‘ چنانچہ اس بیعت کو بیعتِ خلافت کے ساتھ ساتھ بیعتِ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور بیعتِ توبہ و تقویٰ بھی قرار دیا گیا۔
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا انتقال ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو میں نے عرض کی ’’اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں حسبِ استطاعت ’سمع و طاعت(حکم سننے اور ماننے کا عہد)‘ پر بیعت کروں جیسا کہ آپؓ سے پہلے خلیفۂاوّل کی بیعت کی‘‘۔ حضرت سلیم بن ابی عامر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حمراء کا وفد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیعت کی ’’اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائیں گے، نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ قیامِ رمضان کا اہتمام کریں گے اور مجوسیوں کی عید کو چھوڑ دیں گے‘‘۔(مسند امام احمد)
مزید برآں ان تمام خلفاء سے جاری ہونے والے سلاسل بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خلافت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اُمت کو روحانی فیض بھی پہنچاتے رہے اور آج تک پہنچا رہے ہیں۔ موجودہ دور تک پہنچنے والے سلاسلِ طریقت خصوصاً سلسلہ سروری قادری میں روحانی تربیت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ان چاروں خلفائے راشدین کا فیض طالب کو نہیں مل جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے صدق، حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے عدل و محاسبۂ نفس، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے ادب و حیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی نگاہ سے فقر باطنی طور پر طالب کو عطا ہوتا ہے۔ چنانچہ ان خلفائے راشدین کے فیض کا تسلسل ان کی حیاتِ مبارکہ میں ان کی خلافت کے آغاز سے لے کر آج تک جاری ہے۔
آج کا مسلمان جو پہلے ہی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسلمان کہلاتا ہے، اسے اگرچہ بیعتِ اسلام کی ضرورت نہیں ہے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے راشدین کے فیض کے حصول کے لیے بیعتِ توبہ و تقویٰ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے جس کے حوالے بھی کثرت سے سنتِ مبارکہ میں ملتے ہیں اور سورۃ فتح کی آیت18کا جو حوالہ اوپر دیا گیا ہے وہ بھی بیعتِ اسلام نہیں بلکہ اسلام لانے کے بعد مومنوں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک خاص امر پر بیعت(یہ بیعت صلح حدیبیہ سے قبل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ سے اس وقت لی جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر ان تک پہنچی، جو بات چیت کے سلسلہ میں کفارِ مکہ سے ملنے گئے تھے۔ یہ بیعت شہادتِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کا عہد تھی) ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بیعتِ توبہ و تقویٰ کے حوالے مندرجہ ذیل ہیں:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے فرماتے ہیں :
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ بَایِعُوْنِیْ عَلٰی اَنْ لَّا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئاً وَّلَاتَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادُکُمْ وَلَا تَأتُوْا بِبُھْتَانٍ تَفْتَرُوْنَہُ بَیْنَ اَیْدِکُمْ وَاَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوْا فِیْ مَعْرُوْفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ بِہٖ فِیْ الدُّنْیَا فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَھُوَ اِلَی اللّٰہِ اِنْ شَائَ عَفَا عَنْہُ وَ اِنْ شَائَ عَاقَبَۃُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔(بخاری شریف )
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے، جبکہ صحابہ کرامؓ کی جماعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس موجود تھی، فرمایا ’’مجھ سے اس بات پر بیعت کرو (1) اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا (2)چوری نہ کرنا (3) زنا نہ کرنا (4) اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (5) کسی پر بہتان نہ لگانا (6) کسی اچھی بات میں نافرمانی نہ کرنا۔ تم میں سے جو وفائے عہد کرے گا اس کا ثواب اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرم پر ہے اور جو کوئی اِن میں سے کچھ (حرام) کرلے پھر اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے تو وہ اللہ کے سپرد ہے اگر چاہے تو معاف فرما دے اگر چاہے تو سزا دے۔ (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں) چنانچہ ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ سے ہی روایت ہے:
بَایَعْنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمُنْشِطِ وَالْمُکْرِہٖ وَالْاَثْرَۃِ عَلَیْنَا وَاَن لَّا نَنَازَعَ الْاَمْرَ اَھْلَہُ وَلَنْ نَّقُوْلَ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ۔ ( بخاری)
ترجمہ:’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سختی اور آسانی دونوں حالتوں میں سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور خوشی اور ناخوشی میں اور اس حالت میں بھی کہ ہمارے اوپر دوسرے کو مقدم رکھا جائے اور ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ جو شخص حکومت کے لائق ہے اس کی حکومت میں ہم جھگڑا نہیں کریں گے اور سچی بات کہیں گے جہاں ہم ہوں۔ اور اللہ کے کاموں یا اللہ کی رضامندی میں کسی بُرا کہنے والے کی برائی سے ہم نہ ڈریں‘‘۔
یہ دونوں احادیث مبارکہ مسلمانوں کے اسلام قبول کر لینے کے بعد بیعتِ توبہ و تقویٰ کا ثبوت ہیں اور یہی صوفیاء کرام اور مشائخِ عظام کی بیعت کی اصل اور بنیاد ہے کیونکہ بزرگانِ دین کی بیعت کا مقصد یہی ہے کہ ایک مسلمان جو پہلے ہی اسلام کے دائرے میں داخل ہے وہ گناہوں سے توبہ کرے، ذکرِ الٰہی اور عبادت میں کمرِ ہمت باندھے، دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش ہو کر رجوع الی اللہ کرے اور صبر اور ثابت قدمی سے روحانیت کی منزلیں طے کرے۔یہ بیعتِ توبہ و تقویٰ مومنین میں دین میں ترقی کی غرض سے ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہی ہے، اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک کبھی بھی کہیں بھی انقطاع نہیں آیا ۔
البتہ زمانہ کی ضرورت کے حساب سے اس کی صورتیں بدلتی رہی ہیں ۔ اس کی اوّلین صورت تو وہی ہے جو سنتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمہے کہ خلیفہ و امام کے دستِ مبارک پر بیعت کی جائے۔ بیعت کی یہ صورت خلافتِ راشدہ میں بھی جاری رہی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد جب حضرت امام حسنؓ نے چند ماہ کے لیے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے بھی بیعتِ خلافت و بیعتِ توبہ و تقویٰ لی۔لیکن یزید نے جس طرح بیعتِ خلافت پر فساد برپا کیا اور نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے اہلِ بیتؓ پر صرف بیعت کے معاملہ پر جس قدر ظلم و ستم ڈھایا اس کے بعد مشائخِ عظام نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ بیعتِ خلافت کو بیعتِ توبہ و تقویٰ سے بالکل علیحدہ کر دیا جائے ، یوں بھی اس وقت سے ظاہری خلافت ایسے حکمرانوں کے ہاتھ چلی گئی جو اُمت کو کسی طور روحانی فیض پہنچانے کے لائق نہ تھے بلکہ الٹا ان کے دین کے لیے نقصان دہ تھے۔ چنانچہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد بیعتِ خلافت اور بیعتِ توبہ و تقویٰ جد اجدا ہو گئیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے بیعتِ توبہ و تقویٰ کی صورت کو بھی تبدیل کر دیا تاکہ حکمران اس کو بیعتِ خلافت سمجھ کر اپنے خلاف خطرہ نہ سمجھ لیں۔ پس انہوں نے دستِ بیعت کرنے کی بجائے اپنے مریدین کو خرقہ یا عمامہ عطا کرنا شروع کر دیا جو اسی بات کی علامت تھا کہ اب یہ شخص ان کا ارادت مندہے اور ان سے فیض حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ خرقہ عطا کرنا بیعتِ توبہ و تقویٰ کی ایک مصلحتاً اختیار کی گئی صورت تھی لیکن اس کی غرض و غایت وہی تھی جو بیعتِ توبہ و تقویٰ کی تھی یعنی گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اس نورانی اور متبرک زمانے کے ختم ہونے کے چند روز بعد تک بھی یہ بیعت اپنی اصل شکل میں جاری نہ ہوسکی کیونکہ اس بات کا خوف تھا کہ اس سے فتنہ و فساد نہ بھڑک اُٹھے اور ایسا نہ ہو کہ اس بیعت پر بیعتِ خلافت کے ساتھ مخلوط ہونے کا گمان کیا جائے اور اس غلط گمانی کی بنا پر لوگوں کو ناحق ایذا پہنچائی جائے۔ چنانچہ اُس زمانے میں حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ اور اُن کے خلفاء اور بعد کے صوفیاء کرام نے خرقہ دینے کو قائم مقامِ بیعت قرار دیا تھا لیکن جب ایک مدت بعد حکمرانوں، بادشاہوں اور سلاطین سے رسمِ بیعت معدوم ہوگئی اور وہ تمام اندیشے جاتے رہے تو صوفیاء کرام نے اس مردہ سنت کو زندہ کیا اور بیعتِ تقویٰ کو جاری کر دیا۔ صوفیائے کرام ہی کے اسے زندہ کرنے کی بنا پر بیعتِ تقویٰ انقطاع عن ماسویٰ اللّٰہ کے دیگر لوازمات کو اپنے ساتھ شامل کر کے بیعتِ تصوف کے نام سے مشہور ہو گئی۔ (سِرّ دلبراں)
شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’خرقہ پوشی یا خرقہ شیخ اور مرید کے مابین ایک رشتہ ارتباط ہے ۔خرقہ پوشی عین بیعت ہے اس طرح خرقہ صحبتِ شیخ کے حصول کی دہلیز ہے اور مقصودِ کُلّی وہی صحبتِ شیخ اور اس کی ہمیشگی ہے۔‘‘(عوارف المعارف)
پس بیعتِ توبہ و تقویٰ ایسی عظیم سنتِ مبارکہ ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں جاری و ساری رہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلفاء اور وارثین صوفیاء کرام ہی اس سنتِ مبارکہ کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھنے والے ہیں۔ بیعتِ توبہ و تقویٰ کو واپس اس کی اصل صورت میں جاری کرنے کا سہرا بھی دین کو دوبارہ زندہ کرنے والے محی الدین حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سر ہی ہے۔حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو اپنے مرشد حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے خرقہ ہی عنایت ہوا تھا جسے عنایت کرتے وقت حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’
اے عبدالقادر! یہ خرقہ جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا، انہوں نے خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو عطا فرمایا اور ان سے دست بدست مجھ تک پہنچا۔‘‘(بہجۃ الاسرار)
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ آسمانِ ولایت کے آفتاب اور قوت و تصرف کے پہاڑ ہیں۔اللہ نے ان کو اس قدر اختیار اور قدرت عطا کی کہ اس دور کے عباسی خلفاء آپؓ کے بیعت کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں رائج کرنے پر کوئی اعتراض نہ کر پائے اور اب یہ بیعتِ توبہ و تقویٰ آج کے زمانہ تک بھی اپنی اصل صورت میں ہی جاری ہے۔
شیخ ندوی اپنی کتاب ’’رجال الفکر فی الدعوۃ فی الاسلام‘‘ میں فرماتے ہیں ’’شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے بیعت اور توبہ کے دروازہ کو کھولا جس میں تمام عالمِ اسلام کے کونے کونے سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد و میثاق کی تجدید کی اور یہ عہد کیا کہ وہ شرک کریں گے نہ ظلم کریں گے، نہ ہی فسق و فجور اور بد عات کا ارتکاب کریں گے، نہ ظلم کریں گے نہ ہی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھیں گے۔ فرائض کو ترک نہیں کریں گے اور دنیا کو اپنے دِل میں جگہ نہیں دیں گے اور نہ ہی آخرت کو بھولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے دستِ اقدس پر جس دروازہ کو کھولا تھا اس میں بے حدو حساب مخلوق داخل ہوئی۔ ان کے اعمال و احوال بہتر ہو گئے اور وہ بہترین مسلمان بن گئے ۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے ان کی تربیت و نگرانی اور محاسبہ کا اہتمام کیا۔ آپؓ کے روحانی شاگرد بیعتِ توبہ اور تجدیدِ ایمان کے بعد معاشرہ کے ذمہ دار افراد بن گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوفیائے کرام کی اس بیعت و عہد کا انفرادی اور اجتماعی تزکیۂ نفس اور اصلاح میں انتہائی گہرا اثر ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تمام حوالوں سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ بیعتِ توبہ و تقویٰ نہ صرف قرآن و حدیث کی رو سے سنتِ عالیہ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ سنتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سنتِ اولیاء اللہ میں بھی شامل ہے اور دین کے تمام بنیادی لوازم توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج ،جہاد کی طرح آج تک تسلسل سے جاری و ساری ہے۔ البتہ ناقصینِ علم و عقل اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر بے جا اعتراضات گھڑتے اور اسے اپنی جہالت کے باعث کفر و شرک تک قرار دیتے ہیں۔ ان کی عقل میں یہ بات نہیں پڑتی کہ قرآن و حدیث اور اعمالِ اکابرینِ اُمت سے ثابت کسی بھی عمل کو کفر و شرک قرار دینا بجائے خود سب سے بڑا شر اور کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَفَتُؤمِنُونَ بِبَعضِ الکِتٰبِ وَ تَکفُرُونَ بِبَعضٍ (البقرہ)
ترجمہ: ’’کیا ایمان لاتے ہو تم قرآن کے بعض حصوں پر اور کفر کرتے ہو ساتھ بعض کے۔‘‘علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کے جز کا منکر اس کے کُل کا منکر ہے ۔ یہ لوگ اپنی من پسند باتوں پر تو عمل کرتے ہیں اور جو ان کے تکبر کو گوارا نہ ہو اس پر اعتراض گھڑنے بیٹھ جاتے ہیں ۔ نہ صرف خود اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں۔
فیوض الباری فی شرح بخاری میں ہے ’’جب کسی کو کسی شے سے منع کرتے اور اسے حرام و مکروہ قرار دیتے سنو تو جان لو کہ بارِ ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ جب تک واضح شرعی دلیل سے ثابت نہ کردے اس کا دعویٰ اسی مردود پر۔
اور بیعت کے خلاف اس کے منکرین کے پاس ایک بھی شرعی دلیل نہیں ہے پس مردودین میں شامل ہوئے۔ عام لوگوں کو یہ لوگ اس کھوکھلی دلیل سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دلیل اتنی ہی بے تکی ہے جتنی ان کی عقل۔ بیعت کی ضرورت تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی موجودگی میں بھی تھی کیونکہ ان کی سنت اور ان پر نازل ہونے والا قرآن ان کی ذات سے زیادہ قوت والے تو نہیں ہو سکتے کہ لوگوں کی رہنمائی بغیر کسی رہنما کے کر سکیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خود موجود ہوتے ہوئے بیعت کی ضرورت تھی تو ان کی غیر موجودگی میں تو اس کی ضرورت اور بڑھ گئی۔ جس قرآن و سنت کو یہ بیعت کا متبادل قرار دے کر اپنا رہنما تسلیم کر رہے ہیں اسی سے ثابت بیعت کو جھٹلا کر اپنے اس قول کی بھی نفی کر رہے ہیں
خواتین کی بیعت
بیعت پر اعتراض کرنے والے خواتین کی بیعت پر مردوں کی بیعت سے بھی زیادہ کیچڑ اچھالتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث میں خواتین کی بیعت کا تذکرہ علیحدہ سے ملتا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ نے خواتین کی بیعت کے ذکر کا علیحدہ سے خصوصی اہتمام اسی لیے کیا تاکہ ان اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا جاسکے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ امُؤمِنٰتُ یُبَایِعنَک َ عَلٰۤی اَن لَّا یُشرِکنَ بِاللّٰہِ شَیئًا وَّ لَا یَسرِقنَ وَ لَا یَزنِینَ وَ لَا یَقتُنَ اَولَادَہُنَّ وَ لَا یَتِینَ بِبُہتَانٍ یَّفتَرِینَہٗ بَینَ اَیدِیہِنَّ وَ اَرجُلِہِنَّ وَ لَا یَعصِیکَ فِی مَعرُوفٍ فَبَایِعہُنَّ وَ استَغفِر لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ (المُمتَحِنَۃِ)
ترجمہ: اے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)!جس وقت آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور بدکاری نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی جھوٹا بہتان نہ باندھیں گی اور نہ ہی حکمِ شرع پر آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نافرمانی کریں گی، پس ان سے بیعت قبول کریں اور ان کے واسطے اللہ سے بخشش مانگیں، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘
خواتین کی بیعت کے متعلق یہ آیت ایسی واضح دلیل ہے جس سے سوائے حاسد، متکبر اور منکرِ قرآن کے سوا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بیعتِ اسلام نہ تھی بلکہ بیعتِ توبہ و تقویٰ تھی کیونکہ آیت کے آغا زمیں ’’مومنات ‘‘کا ذکر کیا گیا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کرنے کے لیے آئیں ۔ظاہر ہے یہ خواتین اسلام لاچکی تھیں اور مسلمان کی حیثیت سے بیعتِ توبہ و تقویٰ کر رہی تھیں ۔ مومنات کی بیعت کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں بھی کثرت سے ملتا ہے۔ حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور انصار کی عورتوں کے ساتھ مل کر بیعت کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں اس شرط پہ بیعت کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نہ چوری کریں نہ زنا۔ نہ اپنی اولادوں کو قتل کریں، نہ ہی کسی پر بہتان باندھیں اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کریں اور فرمایا کہ نہ ہی تم اپنے خاوندوں کو دھوکہ دو۔ فرماتی ہیں کہ ہم نے بیعت کی اور واپس لوٹ آئے۔ (مسند احمد‘ ابو یعلیٰ‘ طبرانی)
حضرت امئمہ بنتِ زقیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں دوسری عورتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس حاضر ہوئی تو عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم اس شرط پر بیعت کرتی ہیں کہ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ‘ نہ چوری کریں نہ زنا، نہ ہی اولادوں کو قتل کریں اور نہ ہی کسی پر بہتان لگائیں اور نہ ہی نیکی کے کام میں نافرمانی کریں‘‘۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اس میں سے کس چیز پر تم قدرت اور طاقت رکھتی ہو‘‘ ۔ تو ہم نے عرض کی’’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہماری ذاتوں پر ہم سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ تشریف لائیے ہم آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرتی ہیں‘‘ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔ ایک عورت کے لیے میرا ارشاد سو عورتوں کو مخاطب کرنے کے مترادف ہے۔‘‘(ابنِ ماجہ حدیث نمبر2874، مسند احمد جلد2صفحہ 357، کنزالعمال حدیث نمبر476-475، درمنشور )
حضرت عزہ بنتِ خائل رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان امور پر بیعت کی کہ نہ زنا کریں گی اور نہ چوری اور نہ اپنے بچوں کو زندہ درگور کریں گی خواہ اعلانیہ ہو یا خفیہ۔ آپ فرماتی ہیں کہ اعلانیہ طور پر زندہ درگور کرنے کو تو میں جانتی ہوں مگر خفیہ طور پر زندہ درگور کرنے کے بارے میں مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نہیں پوچھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے خبر دی پھر میرے دِل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے مراد بچہ کو ضائع کرنا ہے۔ قسم بخدا میں کبھی بھی اپنے بچہ کو ضائع نہیں کروں گی۔‘‘ (طبرانی، مجمع الزوائد)
قرآن و سنت سے خواتین کی بیعت ثابت ہونے کے باوجود اس پر اعتراض کرنے والے تنگ نظر و بد باطن لوگ ہیں جو خود عورت کو صرف ایک استعمال کی حقیر شے سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسے نہ دنیا میں ترقی کرنے کا کوئی حق ہے نہ دین میں، اس کاکام صرف مرد کی خدمت ہے۔ انہیں خوف ہے کہ اگر عورت نے دین و دنیا کی تعلیم حاصل کرلی تو اسے اپنے ان حقوق سے آگہی حاصل ہو جائے گی جو اسلام نے بحیثیت ایک بندۂ خدا اس کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پھر ان مردوں کی حاکمیت کا کیا بنے گا جو خود کو عقل و شعور کے لحاظ سے عورت سے برتر سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ نے عقل و شعور عطا کرتے ہوئے مرد و عورت کی تمیز روا نہیں رکھی بلکہ عورت و مرد کے فرق کے بغیر جسے مناسب سمجھا اسے ذہانت و عقل کی نعمت عطا کی۔ ان بے عقلوں کو یہ نہیں معلوم کہ دین میں ترقی سے جہاں عورت کو اپنے حقوق کا شعور حاصل ہوگا وہیں مرد کے حقوق کا ادراک بھی ہوگا اور اپنے فرائض کا بھی۔ پھر وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اللہ کے حکم کے مطابق پہلے سے بھی بہتر طریقے سے اپنے ازدواجی فرائض ادا کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ان مردوں کا یہ ہے کہ ان کی اپنی نگاہ میں گندگی اور شہوت بھری ہوتی ہے اس لیے جس طرح یہ خود دوسری خواتین پر نگاہ رکھتے ہیں اسی طرح سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ اولیاء اللہ جن کو بیعتِ طریقت کی اجازت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوئی ہے، خدانخواستہ انہی کے جیسے مرد ہیں جن کے پاس عورتوں کو روحانی فیض کے حصول کے لیے بھی نہیں جانا چاہیے۔ان کے اپنے نفس کا آئینہ ہی اتنا میلا ہے کہ انہیں اولیاء اللہ کے چہروں کی نورانیت اور پاکیزگی بھی میلی دکھائی دیتی ہے۔
ظاہر ہے کہ جس ولیٔ کامل کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا گیا ہے وہ ان جیسا معمولی انسان تو نہ ہوگا ، بلکہ اس کے اعلیٰ ترین رتبے کا ادراک بھی ان کم عقلوں کے وہم و گمان سے باہر ہے۔ چنانچہ اپنی خواتین کو کسی ولیٔ کامل سے روحانی فیض و معرفتِ الٰہی کے حصول کی نیت سے بیعت کرنے سے روکنا جائز نہیں البتہ اس زمانے میں دھوکہ دہی اور فراڈ عام ہونے کے پیشِ نظر اتنی احتیاط ضرور لازم ہے کہ بیعت سے قبل اس بات کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے کہ بیعت لینے والا واقعی ولایت کے منصب پر فائز اور شریعت کا مکمل پابند ہے یا نہیں ۔لیکن کامل اولیاء اللہ کو ان جعلی پیروں جیسا قیاس کرکے ان سے فیض کے حصول سے روکنا زیادتی ہے۔یہ بات بھی طے ہے کہ جن خواتین و حضرات کی طلب سچی ہے اور وہ واقعی معرفتِ الٰہی کی خاطر گھر سے کسی ولیٔ کامل کی تلاش میں نکلے ہیں اللہ خود ان کا مدد گار ہوگا اور کبھی انہیں دھوکہ بازوں کے چنگل میں پھنسنے نہ دے گا۔
عورت بھی اللہ اور اللہ کی محبت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کی محبت ، دینِ اسلام اور اس کی تعلیم کے حصول پر اتنا ہی حق رکھتی ہے جتنا کہ مرد۔ اللہ نے عورت اور مرد کو برابر بنایا اور ان سے اپنا روحانی رشتہ بھی ایک ہی بنیاد پر استوار کیا۔ دنیا میں یہ ارواح عورت اور مرد کے لباسوں کی صورت میں ظاہر ہوئیں کیونکہ انہیں دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے اپنے اپنے مختلف کردار ادا کرنے تھے ، ورنہ اصل میں روح تو نہ مرد ہے نہ عورت، اور اللہ سے ہر روح کا رشتہ عشق کا ہے خواہ وہ مرد میں ہو یا عورت میں۔ اسی لحاظ سے روحانی ترقی کرنے اور معراج پر پہنچ کر اللہ کا دیدار کرنے کا حق مرد اور عورت دونوں کو برابر ہے۔ لہٰذا عورتوں کو کسی ولئکامل سے روحانی فیض حاصل کرنے سے روکنا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ معاشرے میں بیشتر گھرانوں میں عورتوں کے ہوٹلوں، بازاروں، سینماؤں وغیرہ میں جانے اور کھلے عام گھومنے پھرنے اور غیر مردوں سے آزادانہ میل جول رکھنے پر تو کوئی پابندی اور اعتراض نہیں کیا جاتا خواہ وہ ڈاکٹر کے روپ میں ہو یا استاد، دکاندار ہو یا نامحرم رشتہ دار، کلاس فیلو ہو یا ہمسایہ۔لیکن جیسے ہی ایک عورت کسی مرشد کامل سے روحانی فیض کے حصول کی غرض سے ملتی ہے اس پر عجیب و غریب بے جا اعتراضات شروع کر دیئے جاتے ہیں جیسے وہ خدانخواستہ کوئی شیطانی کام کر رہی ہے ۔ بلاشبہ حق کی راہ سے روکنے والے خود شیطان کا دوسرا روپ ہیں۔ حق کی طالبِ صادق خواتین کو کبھی اپنے اور اللہ کی راہ کے درمیان روڑے اٹکانے والے ایسے شیطانوں کی آواز پر کان نہیں دھرنے چاہئیں بلکہ انہیں صرف سگِ راہ سمجھ کر نظرانداز کر دینا چاہیے اور راہِ حق پر استقامت سے سفر جاری رکھنا چاہیے۔ بے شک ان کی استقامت اور صبر کی بدولت اللہ جلد ان راستے کی رکاوٹوں کو ان سے دور کر دے گا۔ (انشاء اللہ)