مفتی اعظم ہندبحیثیت شیخ طریقت
سریہ تاج ہدی ٰ،تن پہ نوری ردا نائب مصطفیٰ ظل غوث الوریٰ
مفتی اعظم ہندکی بات کیا
دل میںیادخدالب پہ صل علیٰ شان خواجہ پیاجان احمدرضا
مفتی اعظم ہندکی بات کیا
وقت کی نابغہ روزگارشخصیت اپنی پوری شان شوکت کیساتھ معتقدین کے جھرمٹ میںجلوہ افروزہے، کہ اچانک کسی نے ان کے نومولودننھے منے بچے کوان کی گودمیںدیکرعرض کیا’’حضور!اپنے اس نونہال کے حق میں دعائے خیرفرمادیں،،بچے کی کومل صورت پرنظرپڑ
تے ہی باپ کی نگاہ عاطفت میںمحبت وپیارکی ہزاروںجوت جگمگااٹیں ۔اورسرپردست شفقت پھیرتے ہوئے بچے کواپنے سینے سے چمٹالیا۔حاضرین دیکھ رہے تھے کہ قطرہ سمندرمیںضم اورسمندرقطرے میں سمٹاجارہاہے باپ کی نگاہ کہاںتھی معلوم نہیں، لیکن زبان سے جاری ہونے والے کلمات واضح طورپرلوگوںکی سماعت کوفیض بخش رہے تھے ’’میرایہ بچہ مادر زادولی اورعلم رسالت پناہ کاسمندرہے ‘‘۔
سامعین کوکیامعلوم کہ باپ کایہ جملہ شفقت پدری کے جذبۂ صادق کی ترجمانی ہے یالوح محفوظ کے مشاہدہ کانتیجہ، الفاظ ہواکے دوش پرمچل کرفضاء میں تحلیل ہوگئے لیکن ان کے معانی لوگوںکے خزانۂ خیال میں محفوظ ہوگئے ،حال ماضی میں بدل گیااورمستقبل سامنے آتے گئے رفتہ رفتہ بچے کے سیمائے فراست پربزرگی کے آثارظاہرہوتے گئے تاآنکہ ایک وقت ایسابھی آگیاکہ والدگرامی کی بشارت کاایک ایک لفظ حق وصداقت کاپیکربن کردنیاکے سامنے آگیا،یہ بچہ کون تھا؟یہ بچہ وقت کے غوث العالم، سیدناسرکارمفتی اعظم ہنداورباپ مملکت اہلسنت کی راجدھانی کے تخت نشین ،سیدنااعلی حضرت امام احمدرضاعلیہ الرحمۃ والرضوان تھے ۔
تاریخ وحالات پرمشتمل کتابیںگواہ ہیںکہ تاجداراہلسنت سیدنااعلیٰ حضرتاپنے پیرومرشدکے میکدہ ،گنج اولیاء مارہرہ مطہرہ میں حاضرتھے ،رات کاتین چوتھائی حصہ گزرچکاتھاساری کائنات محواستراحت تھی، امام احمدرضاآخرشب کی لذت سے ہمکنارہونے کیلئے اپنے معمول کے مطابق مسجدکی طرف بڑھ رہے تھے، اسے اتفاق بلکہ حسن اتفاق کہئے کہ راہ میںقطب ربانی حضرت شیخ ابوالحسن نوری میاںصاحب رحمۃاللہ علیہ سے ملاقات ہوگئی ،جوخودبھی اپنی ہزارشان بندگی کے ساتھ مسجدکی جانب جارہے تھے ۔
دوپارۂ نورکے تصادم نگاہی نے تیسرے نورکے جنم کاایک دوسرے کوپیغام دیا،یعنی ہرایک نے آنکھوںآنکھوںاپنے اپنے رویا صادقہ کی سرگذشت بیان فرمائی اس عطرالوردین کاحاصل یہ تھاکہ امام احمدرضاکے دولت سرائے اقبال میںایک چاندسے بچے کاتولدہواہے ،ولی کی بات ولی جانے، لیکن حاضرین نے دیکھاکہ نمازفجرکے بعدقطب ربانی حضرت شیخ نوری میاںصاحب نے وہیں اسی حال میںاس نوزائیدہ بچے کی بیعت لی اورغائبانہ طورپرخلعت واجازت سے سرفرازفرمایا۔
کیاحضرت نوری میاںصاحب حال کے جھروکے سے مستقبل کوجھانک رہے تھے ؟گویہ بات اس وقت صیغہ ٔ رازمیںرہی ،لیکن آنے والے حالات وواقعات نے اس رازکورازرہنے نہیں دیا،اورپھراسی دن بعدنمازعصرمجلس خاص میں حاضرین کے سامنے خواب کے جزئیات بیان کئے گئے اورآپ کانا’’ آل رحمٰن ‘‘تجویزکیاگیا۔
دن ہفتوںمیں اورہفتے مہینوں میںبدلتے گئے تاآنکہ جب ماہتاب چھٹی بار ہلال کی صورت میںنمودارہواتوقطب ربانی حضرت شیخ نوری میاںصاحب نے بنفس نفیس بریلی شریف تشریف لاکربیعت وخلافت کے مراسم کی تجدیدفرمائی ،باب اجابت کوچومنے والی پیشن گوئی پرمشتمل پدربزرگوارکی دعاء اورہزاروںمس خام کوکندن بنانے والی پیرومرشدکی نگاہ نے عہدطفلی ہی میںبچے کوبسطامی شمائل اورجنیدی خصائل کاجامع بنادیا۔
لیل ونہاراپنے نازک خرامی سے آگے بڑھتے گئے، اورلوگوںکی بھیڑتیزی سے قریب آتی گئی اورپھرزمانہ کی آنکھوں نے دیکھاکہ آپ کی ذات مصدرالحسنات منبع الفیضان اورمرجع الخلائق ہوگئی ،آپ کی ذات سنت نبویہ کی سمٹی ہوئی کتاب اورآپ کی زندگی اس کی پھیلی ہوئی شرح بن گئی ،آپ کاقول وقرار،رتاروگفتاراور لیل ونہارقوم مسلم کے لئے مینارۂ رشدوہدایت اورآپ سے حسن عقیدت دین وایمان کی علامت ہوگئی ۔
اورپھرجب ذکروفکر،صبروشکر،عشق وعرفان،ضبط وتحمل،ایثاروتوکل،تسلیم ورضا،خدمت وطاعت،عبادت وریاضت،زہدوتقویٰ ،عجزوانکسار و احتیاط اورصدق وصٖفاآپ کی زیست کی خمیربن گئی توآپ مقام غوثیت سے مقام محبوبیت پرفائزکردئیے گئے دنیاکے مقتدرعلماء کرام اورذی وجاہت مشائخ عظام آپکے جلوہ کے گردپروانہ وارنثارہونے لگے۔ آنکھیں تھیں جوآپ کی دیدارسے سیرنہیںہوپاتیں،قلوب تھے جوآپ کی عقیدت سے شکیب آشنانہیں ہوپاتے،زائرین کاحال یہ ہوتاکہ اے جلوۂ جاناناں دل دیتاہوںنذرانہ کہکرقدموںسے لپٹ جاتے ۔
خیالوںکی دنیامیںآؤ اورسوچوکہ وہ منظرکتنادیدہ زیب اورنظرنوازہوگا،جب کوئی ہستی رشدوہدایت کاممبع اورعلم وآگہی کاپیکربن کرپھولوں کے مالاوں سے سج دھج کرابوحنیفہ کاعلم ،عراقی تصوف،بایزیدکاکرداراورجنیدکاگفتارلوگوںمیںبانٹ رہی ہواورعلماء ،صلحاء،مشائخ،اساتذہ،طلبہاورعوام اپنی اپنی بساط بھرلوٹ رہے ہونگے ۔
یہ کوئی عالم خیال کی منظرکشی نہیں بلکہ مفتی اعظم ہندکی بارگاہ کے روزوشب ہیںیہ کسی عالم خواب کی عکاسی نہیںبلکہ حضورمفتی اعظم ہندکی سرکارکاآنکھوںدیکھاحال ہے ۔
شیخ کامل کی تلاش وجستجونے جب حضرت مخدوم بہاری علیہ الرحمۃ والرضوان کوبے چین کردیاتومخدوم نے ہندوستان کے متعدداولوالعزم مشائخ کرام کی بارگاہ تک سفرکیایہاںتک کہ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی کے آستانہ تک حاضری دی ،جہاںسے ہزاروںدردمنددلوںنے اپنادرماںحاصل کیا،لیکن مخدوم کادل تھاکہ یہاںبھی سکون پذیرنہیں ہوا،سیدالمجاذب حضرت ابوعلی شاہ قلندرکی پرجلال چوکھٹ تک پہونچ گئے لیکن یہ کہکرواپس لوٹ آئے’’مردایست وے مغلوب الحال‘‘اورجب حضرت نجیب الدین فردوسی کی خانقاہ میںحاضرہوئے، توجلوۂ زیبادیکھتے ہی پسینہ پسینہ ہوگئے۔ اورساراجسم تھرتھرکانپ اٹھا،اورپھرحضرت نجیب الدین فردوسی علیہ الرحمہ کے فرمان پرکہ ’’اے درویش !آتمہارے زخمی دل کاعلاج یہاں ہے ‘‘ہاتھ بڑھاکربیعت کرلی یہ واقعہ ماضی کے اس حصہ کاہے جسے ہم تاریخ کے اوراق سے معلوم کرسکتے ہیںلیکن اگرہوبہوحال مشاہدہ کرناہوتوبارگاہ مفتی اعظم ہندمیں آ کرآپ روزانہ بیشمارایسے حالات بچشم خوددیکھ سکتے ہیں۔یقینایہ ایک شیخ کامل کی واضح علامت ہے ۔
ایک شیخ کامل کی یہ اولین شرط ہے کہ وہ راہ سلوک طے کرنے میں راہوارشریعت پراسی طرح سوارہوکہ طبعی طورپرہراداموافق شرع اورہرقول دین کاآئینہ دارہو،ان کی نششت وبرخواست میں ،قول وگفتارمیں،عمل وکردارمیں،اسلام کی جھلکیاںنمایاں ہوںاپنے ہم عصرمشائخ میں یہ اوصاف کامل طورپرصرف اورصرف سیدناسرکارحضورمفتی اعظم ہندمیں اسطرح سمٹ کرآگئے تھے کہ گمان ہوتاکہ یہ انسان نہیں دھرتی کافرشتہ ہے،غوث العالم کاجلال ،خواجہ پیاکاجمال ،بسطامی کاکمال،محبوب الٰہی کانوال یکجاطورپر حضرت کی ذات میں محسوس کیاجاتاتھا۔بارگاہ میں حاضری دینے والاآپ کوہررنگ میں مشاہدہ کرتاکبھی ہیبت ولایت کایہ حال ہوتاکہ وقت کے بڑے بڑے فضلاء بارگاہ میں سرتسلیم خم کئے نظرآتے ،کسی میں جرأت نہیں ہوتی کہ لاونعم کے سواکچھ عرض کرتے ،اورکبھی شان محبوبیت کایہ حال ہوتاکہ امیروغریب،ناداروبیکس،علماء اورعوام اپنی اپنی حاجت پیش کرتے اورآپ نہایت ہی شفقت کے ساتھ سماعت فرماکراس کامداواکردیتے ۔
بالعموم آپ اس پرسکون جھیل کی طرح خاموش رہتے جس کی سطح پرکنول کے پھول مسکرارہے ہوںلیکن جب کوئی الجھاہواشرعی معاملہ درپیش آتاتوآپ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندرکی طرح لہرااٹھتے اوراپنی اجتہادسے مسئلہ کی تخریج وتشریح اوراسکے نظائروامثال براہین واستدلال اس طورپربیان فرماتے کہ علماء دہرحیران وششدہ رہ جاتے یہ کیفیت ولایت اورجلالت علم کاحال ہرجگہ اورہرمقام پریکساںہوتاسفرمیںہوںیاحضرمیںدولت کدہ پرہوںیاباہر،یہی وجہ تھی کہ آپ جہاںکہیںبھی تشریف فرماہوتے پلک زدن میں علماء عوام ،اغنیاء ،فقراء کامیلالگ جاتاآپ شمع ہوتے اورکائنات پروانے آپ پھول ہوتے اورخلقت عندلیب آپ بدرکامل ہوتے اورلوگ پیاسی دھرتی، یقینایہ محبوبیت کی آیت بینہ تھی ۔
اس عزیمت وتقویٰ کے عامل اوررخصت واجازت کے حاکم کی عجب نرالی شان تھی ،جب کبھی ان کے متعلق سوچاگیاتوفیصلہ کرنادشوارہوگیاکہ آپ میں اخلاق وآداب کاغلبہ ہے یاوجدان وحسبان کاغلبہ ہے ،فقہ وکلام کازورہے یاملکہ واستحضارکازورہے ،علم کے جبہ ودستارکوفضیلت ہے یاردائے درویشی کورفعت ہے جس کی طرف نگاہ اٹھی اسکی قسمت کاستارہ اوج ثریاپرنظرآنے لگااورجدھرسے نگاہ پھیرلی اس کابیڑاغرق ہوگیا،یقینایہ تصرف فی الامورکی آیات طاہرہ تھیں۔
بارہالوگوںکی نگاہوںنے حیرت سے یہ منظردیکھاہے کہ پزمردہ کلیوںکاکوئی ہارآپ کے گلے میںڈالاگیا،کمہلائے پھولوںکاہارزیب گلوہوتے ہی پزمردگی شگفتگی میں بدل گئی ایسامعلوم ہوتاہے جیسے ملہارراگ سے پھولوںمیںجا ن پڑگئی ’عرس رضوی ‘کایہ حیرت انگیزمنظرہزاروںآنکھوںمیںآج تک محفوظ ہوگاکہ جب آپ ڈائس پرتشریف رکھتے توآپ کامصحف رخ لمعات انوارکاایسامظہربن جاتاکہ لوگوںکی نگاہ اس پرٹھرنہیںپاتی ایسامعلوم ہو تاجیسے جنت کی رعنائیاںان کے کتابی چہرے پرنثارہورہی ہیں،یقینایہ حالت درجۂ محبوبیت کی کھلی نشانی تھی ۔
عام طورپرمشائخ کایہ حال ہے کہ اپناوطن جہاںانکے شب وروز،صبح وشام،بچپن اورجوانی گزری ہوتی ہے وہاں کے لوگوںکی نگاہ میںان کاکوئی خصوصی مقام نہیں ہوتاہے لیکن اس عام ضابطہ سے حضورمفتی اعظم کی ذات مستثنیٰ تھی ۔
آپ دوردرازعلاقوںمیںجس طرح جانے پہچانے جاتے اسی طرح اپنے وطن کے رہنے والوںکے دلوںپربھی راج کرتے۔ بریلی شریف کاوہ کونسادل ہے جس پرغوث العالم سیدناحضورمفتی اعظم کاسکہ نہیں چل رہاہے ،وہ کونسی نگاہ ہے جس میںان کے دیدارپر جمال کاعکس نظرنہیں آتا،دل دھڑکتاہے توآپ کی یادمیں،آنکھیںترستی ہیںتوآپ کے دید کیلئے ،یقینایہ شان محبوبیت کی اعلیٰ نشانی ہے ،یہی وجہ کہ جب کوئی شخص خانقاہوںکے مشائخ زمانہ کی زیارت اورمشاہدیگانہ کی برکت حاصل کرنیکی غرض سے ہندوستان کے طول وعرض کی سیرکرتے ہوئے آپ کے حدودتجلیات میں داخل ہوتاتوبے ساختہ پکاراٹھتا ؎
آفاقہاگردیدہ ام مہربتاںورزیدہ ام
بسیارخوباںدیدہ ام لیکن توچیزے دیگری
آخرمیںاس شعرپرکلام کااختتام کرکے رخصت ہورہاہوں ؎
بڑی مدت میںساقی بھیجتاہے ایسامستانہ
بدل دیتاہے جوبگڑاہوادستورمیخانہ٭
Post Views: 407