بسمل اعظمی دورِ حاضر کا حالات شناس شاعر
از قلم: محمد ابراہیم آسیؔ
مافی الضمیر کونثر میں نہ کہہ کر نظم کے سانچے میں ڈھالنے کا نام شاعری ہے۔ شعر و ادب کا میدان کبھی خالی نہ رہا۔ فن کے ذوق رکھنے والے اپنے اپنے اندازِ فکر سے طبع آزمائی کرتے ہیں شاعر کے دل میں سماج اور معاشرہ کے تعلق سے جو احساسات ہوتے ہیں اسے اشعار کی روشنی میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جس درد اور تڑپ کے ساتھ شاعری ہوتی ہے وہی درد اور تڑپ پڑھنے اور سننے والے اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔
بسملؔ اعظمی کا نام محمد ایوب ہے آپ اتر پردیش کے مایۂ ناز علاقہ اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ گھر میں علمی اور ادبی ماحول پایا، اسی علم و فن کے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ علم و ادب آپ کے اذہان و افکار میں رچ بس گیا۔ فن شاعری ایک پُر خار وادی ہونے کے باوجود آپ نے اس میں قدم رکھا خار کو پھول سمجھا۔ موج شعر و سخن میں ہچکولے کھاتے رہے۔ استاد کے دست معاونت نے سہارا دیا منزل قریب ہوتی گئی نا کامی منہ چھپانے لگی آپ نے تقریباً ہر اصناف سخن پر طبع آزمائی کی اور اپنے رشحات قلم سے حمد، نعت، غزل، نظم لکھی ۔ آپ نے اپنا تخلص بسملؔ انتخاب فرمایا۔ شاید آپ کے تحت الشعور میں یہ بات تھی کہ میں ایسی شاعری کروں جس میں درد، تڑپ، کرب، کسک ہو، ایسے شعر و سخن کیلئے بسملؔ ہی مناسب تخلص ہے بلا شبہ آپ کی شاعری آپ کے تخلص کی ترجمانی کرتی ہے۔
زخم کھا کر بھی مسکراتا ہوں
زندگی ہے کہ ’رقص بسمل‘ ہے
مانا کہ تڑپنے کا ہوتا ہے برا انجام بہت
پھر بھی جدائی میں ان کی تڑپا ہے دل ناکام بہت
دہراتا ہوں جس وقت میں وہ قصہ بسملؔ
جی آج بھی بھر آتا ہے اس کرب بیاں سے
شعر وشاعری میں آپ زندہ دل اور بیدار مغز ہیں اگر آپ کا قلم گیسوئے محبوب کو سنوارتا ہوا نظر آتاہے تو کبھی مظلوم کی آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ آپ نے شاعری سابقہ روایات پر قائم رہ کرکی ہے۔ اس کے باوجود سماج اور معاشرہ کے حالات سے بے خبر نہیں رہے وقت اور حالات نے آپ کے تدبر اور تفکر پر ایسا اثر ڈالا کہ سابقہ شاعری کی طرح آپ غزل میں صرف محبوب کی ناز و ادا، گلہ و شکوہ، وصل و ہجر پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ غزل میں بھی سماج کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں آپ کے غزلیہ اشعار میں دور حاضر کے اختلال و انتشار، بے چینی و بحران، کشمکش و آویزش کی ترجمانی ہوتی ہے۔
ہم نے بسملؔ کھو دیا اپنا وقار
رہ کر اس کم مائیگی کے شہر میں
آپ کے کلام کا تغائر نظری سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گلشن تخیل سے حسین و جمیل پھولوں کو چن کر یکجا فرما دیا ہے۔ آپ کے کلام میں فکر اور موضوع کچھ اس طرح ہم آہنگ ہیں کہ اسلوب میں طرح داری بھی پیدا ہو جاتی ہے اور تہہ داری بھی۔ ندرت خیال اور انداز بیان میں علوئے فکر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے سفر میں نشیب و فراز، خوشی اور غم، پھول اور کانٹے، مسکراہٹ اور آنسو، شبنم اور شعلہ، محبت و عداوت، فقر و غنا، اپنائیت اور بیگانگی، وفا اور بے وفائی، ہجر اور وصل، ہر ایک کو قریب سے صرف دیکھا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے ہمکنار بھی ہوئے ہیں اور یہی رنگ آپ کی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے آپ کے کلام میں صرف غم عشق کی ضیا پاشیاں ہی نہیں ہیں بلکہ غم روز گار کا بھی جگہ جگہ ذکر ملتا ہے، اگر چہ آپ کی زندگی شراب و کباب کی لذت سے نا آشنا ہے آپ با اخلاق، باکردار نیک نفس انسان میں بنت انگور سے آپ کو لگائو نہیں اس کے باوجود فنی روایات پر چلتے ہوئے خمریات پر آپ نے طبع آزمائی فرمائی اور اس میں ایسا سوز و گداز پیدا ہوا کہ حقیقت کا رنگ نظر آنے لگا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ آپ لذت مئے سے نہ آشنا رہے بسملؔ صاحب فرماتے ہیں۔
جب اٹھے ہوں گے میکدے سے ہم
بزم ویراں ہوگئی ہوگی
بدلنے والا ہے آداب میکدہ بسملؔ
کوئی پیغام پہونچا دے بادہ خواروں تک
تیری نگاہ کرم سب پہ عام تھی ساقی
فقط نصیب میں میرے ہی تشنگی آئی
شبابیات میں بھی آپ کا انداز تخیل و تفکر کسی فطری رومانی اور عشق میں مبتلا شاعر سے کم نہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی نازنین کو سامنے بٹھا کر الفاظ کے ذریعہ اس کی پیکر تراشی کر رہے ہیں۔ آپ کے عشقیہ اشعار میں حسن نسوانی کی دلکشی ، محبوب کے بدن کی خواہش، کیف وصال اور کرب انتظار کی کیفیات ملتی ہیں۔ جمالیاتی احساس کی نزاکت اور پاکیزگی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ زندگی کے حقیقی رنگ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ جہاں محبوب کو بہار کی جان بتاتے ہیں وہیں اس کو اپنی جان بھی قرار دیتے ہیں۔
بد مست ہیں رقاصۂ دوراں کی ادائیں
بسملؔ سے یہ پازیب کی جھنکار کہے ہے
اف یہ معصوم ادائیں یہ جوانی کا خمار
یہ تبسم، یہ ترنم، یہ تکلم یہ نکھار
چھین لیتا ہے میرے دل کا سکون اور اقرار
اے میری جانِ تمنّا اے میری جانِ بہار
آپ کی شاعری ہوسناکی، لذت پرستی، خوشامدی اور چاپلوسی سے مبرا ہے آپ کی شاعری میں شوخی، چنچل پن، چھیڑ چھاڑ، طنز و مزاح اور چبلاہٹ اس انداز میں در آئی ہے کہ مذاق سلیم پر بھی گراں نہیں گزرتا فرماتے ہیں ؎
ذرا سی بات پر ہنسنا مچلنا اور بل کھانا
یہ انداز ظریفانہ نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
کہا جاتا ہے کہ شاعر ہمیشہ جوان رہتا ہے جناب بسملؔ صاحب نے اس کو ثابت کر دکھایا ۔ آپ کے عشقیہ اشعار زندگی کے جس دور میں بھی کہے گئے ہوں ایسا لگتا ہے کہ کوئی نوجوان موسمِ بہار کی سرسبز وادی میں اپنے محبوب کی زلف پریشاں کے سامنے شعر و شاعری کئے ہیں بسمل صاحب لکھتے ہیں ؎
اے صنم آج تیری کاکل پیچاں کو سلام
رخ پہ بکھری ہوئی ہر زلف پریشاں کو سلام
روایتی اور خارجی مضامین کی طرح عام تجربے اور مشاہدے کی بات بے لاگ جذباتی اور غیر جذباتی کے ملے جلے انداز میں کہنا آپ کی شخصیت کا طرۂ امتیاز ہے آپ کے اشعار میں محبوب کا ذکر بھی ہے اور ارباب ِ اقتدار سے خطاب بھی یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ حدیث دلربا حدیث زمانہ بن جائے آپ نڈر ہو کر صاحبِ اقتدار سے مخاطب ہیں۔
ظالم و جابر و غاصب کا ہمیں نام نہ دو
ہم کو غدار وطن ہونے کا الزام نہ دو
اور اب اس سے زیادہ کوئی انعام نہ دو
ہم نے بخشا ہے تمہیں ایک حسین تاج محل
آج صدیوں میں بھی تم نہ دے سکے جس کا بدل
آپ گہرا لسانی شعور رکھتے ہیں لفظ کی قدرو قیمت سے آشنا ہیں روز مرہ بولے جانے والے الفاظ کو چننے میں دسترس رکھتے ہیں اور اس کی مناسب ترتیب سے اپنی تخیلی دنیا تخلیق کرتے یں ۔ آپ نے جو زبان استعمال کی ہے وہ روایتی ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں جدیدیت کا رنگ بھی نظر آتا ہے سادہ الفاظ کو پیکروں میں اس طرح ڈھالتے ہیں کہ قاری حسیاتی پیکروں سے متاثر ہو جاتا ہے۔ آپ کی نگاہ زندگی کے خوب و خراب، معاشرت کی زبوں حالی، ارد گرد کے انتشار و اختلال پر بھی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب شاعری میں جذبات اور تخیلات یک ہو جاتے ہیں تو فن کارانہ نقش گری کامیاب ہو جاتی ہے۔ بسمل صاحب کی شاعری میں جذبات اور تخیلات ایک جان دو قالب نظر آتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں واردات عشق و محبت معاملات قلب و جگر کے حوالے سے شب بیداری اور اختر شماری کا بھی ذکر ملتا ہے جس سے سطح شاعری میں ایک عجیب و غریب رنگ نظر آتا ہے ۔ آپ کے یہاں وعدوں پر جینے کی عادی ہو کر طول شب اور ہجر کا خوف دل سے نکال دیا جاتا ہے۔ بسملؔ صاحب لکھتے ہیں ؎
وعدوں پہ جیتے جیتے ہی عمر میں گزر گئیں
طول شب فراق کا ڈر جانے دیجئے
آپ کی پرواز نگاہ صرف محبوب کی حسین زلف اور لب نازک پر ہی نہیں رکتی ہے بلکہ تاریخ کے ان جیالے نوجوانوں پر بھی ہے جنہوں نے وطن عزیز کیلئے جان قربان کردی۔
میسور کے جاں باز تھے دو حیدر و ٹیپو
ہر رزم میں ان کا وہ جگر یاد تو ہوگا
بے جرم و خطا دی گئی احرار کو پھانسی
غربت میں رہا شاہ ظفر یاد تو ہوگا
اسلاف کے ایثار کو اس طرح نہ بھولو
مانا کہ و ماضی ہے مگر یاد تو ہوگا
آپ کی فطرت میں استقامت و استقلال موجود ہے آپ خود دار ضرور ہیں متکبر نہیں اپنی زندگی میں کبھی تملق آمیزی سے کام نہ لیا، اپنی نرالی شان سے شاہرا زندگی پر سفر کرتے رہے یہ آپ کا استقلال ہی ہے کہ حالات کے پیشِ نظر بھی کسی کے سامنے سرخم نہیں کئے اپنے ایک حریف سے طویل مدت کے بعد مقدمہ جیتنے پر لکھتے ہیں ؎
جبہ سائی مجھے منظور نہیں ہے بسملؔ
چاہے اس ضد پہ میری قہر ستمگر ٹوٹے
آپ کا دو مجموعہ کلام ’’رقص بسملؔ‘‘ اور ’’گزر گاہِ خیال‘‘ منظرِ عام پر آچکا ہے اور حلقہ شعر و ادب میں بے پناہ مقبول ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بسملؔ صاحب کی تخلیقی قوت آپ کے دونوں مجموعۂ کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ آپ نے خارجی زندگی کا سامنا کر کے تخیلی طور پر اپنے تجربات کو لفظ و پیکر میں ڈھال دیا ہے آپ نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے کورٹ کچہری کے اتنے چکر لگائے کہ حالات نے آپ کو حالات شناس بنا دیا شاید آپ کی شعری شخصیت کی رنگا رنگی اور تب و تاب کا محرک بھی یہی ہو کیوں کہ آپ کے اشعار اس کی غمازی کرتے ہیں ؎
مت سکھائو ہم کو موجوں کا شعور
ہم جہاں ساحل وہیں طوفاں بھی ہیں
یہ اور بات ہے مہر سکوت ہے لب پر
زبان حال سے ہم اپنا غم سنالیں گے
میں وہی ہوں بسملؔ جاں بلب جو رہا ہے قیدیٔ رنج و غم
یہ نہ پوچھو کیسے کشاں کشاں راہ زندگی میں سفر کیا
٭٭٭
Post Views: 261