جامعہ قادریہ اشرفیہ کا ۲۲؍واں سالانہ جشن دستار فضیلت بحسن خوبی اختتام ہوا

جامعہ قادریہ اشرفیہ کا ۲۲؍واں سالانہ جشن دستار فضیلت بحسن خوبی اختتام ہوا
ختم بخاری کے موقع پر ہر جائز دعا قبول ہوتی ہے، محدثین میں امام بخاری کا مقام کافی بلند ہے  (مفتی حفیظ اللہ صاحب )
(اسٹاف رپوٹر )ممبئی موصولہ اطلاعات کے مطابق۶؍ مئی  بروزسنیچر بعد نماز عشاء ،جامعہ قادریہ اشرفیہ کا سالانہ جشن دستارفضیلت اور ختم بخاری شریف کا  پروگرام سنی مسجد بلال شکھلا جی اسٹریٹ میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ منایا گیا  پروگرام وقت مقررہ پر شروع ہوا۔محفل کا آغازسید انواراشرف اسلامک سینٹر کے استاذحضرت قاری غلام سرور صاحب قبلہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا  ۔سب سے پہلے حافظ وقاری عمیر نے نعت پاک پیش کی  پروگرام کی صدارت شہزادہ شہید راہ مدینہ حضرت علامہ مولاناالحاج الشاہ السید معین الدین اشرف الااشرفی الجیلانی صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ کچھو چھہ نے فرمائی اس نورانی بزم میں شہزادگان حضور شہید راہ مدینہ ،اشرف الصو فیا ء حضرت الشاہ السید حسین اشرف اشرفی جیلانی ،نباض قوم وملت جناب علی اشرف اور حضرت سید حسن اشرف اشرفی جیلانی بہ نفس نفیس موجود تھے ،بارگاہ رسالت میں کلکتہ سے آئے ہوئے مہمان شاعر ،شاعر اسلام نسیم حبیبی نے بارگاہ رسول  میں ہدیہ نعت پاک پیش کی بعدہ جامعہ کے استاد حضرت علامہ قاری مشتاق احمد تیغی نے نعت پاک سنا کر سامعین کو محظوظ کیا پروگرام کی نظامت جامعہ ہذا کے  صدرالمدرسین  حضرت علامہ مولانامفتی عبدالستار صاحب نے کی  مختصر وقت میں معین ملت کے حکم پر ایک مختصر اور جامع تقریرامام بخاری کی سیرت پر پیش کیا ، اور تدوین حدیث پر گفتگو فرماتے ہوئے اقسام حدیث سامعین کو بتایا  اسکے بعدجناب سعید نوری کے صاحب زادے نوری سلمہ نے والہانہ انداز میں نعت پاک کے اشعار سے سامعین کو محظوظ کیا  ۔
ختم بخاری شریف کی رسم حضرت علامہ مولانا مفتی حفیظ اللہ صاحب قبلہ نے ادا کرتے ہوئے فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھائی اور رموز نکات بیان کئے مفتی صاحب نے  بخاری شریف کی عظمت بڑی و ضاحت کے ساتھ بیان فرمائی اور امام بخاری علیہ الرحمہ والرضوان کی سوانح عمری بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ امام بخاری علیہ الرحمہ الرضوان نے بخاری شریف مرتب کرکے دنیائے اسلام پر احسان عظیم فرمایا ہے  آپ نے کہا کہ ختم بخاری کے موقع پر ہر جائز دعا قبول ہوتی ہے آپ نے بخاری شریف پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا  بخاری شریف میں سات ہزار دوسو پچھتر حدیثیں موجود ہیں  حضرت امام بخاری کی عظمت بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپ نے دس سال کی عمر میں فن احادیث پر عبور حاصل کرلیا تھاآپ کی پیدائش ۱۳؍شوال   ۱۹۳؁ ء کو ہوئی امام بخاری فرماتے ہیں کہ میں اس کتاب کو تقریبا چھ لاکھ حدیثوں سے منتخب کر کے تصنیف کیا ہے   ۔حضرت علامہ مفتی منظور صاحب مصباحی  نے فردا فردا ہر فارغ ہونے والے طلبہ کو بلایا حضور معین ملت نے اپنے دست اقدس سے ان کے سروں پر دستار باندھا  بعد ہٰ بارگاہ نبوی میں صلٰوۃوسلام کا ہدیہ پیش کیا گیا آخر میں معین ملت نے رقت آمیز انداز میں مومنوں کی جان ومال کی سلامتی وایمان کے تحفظ اعمال صالحہ کی پابندی اور ملک میں امن وسلامتی  معاشرہ کے نوجوانوں کو نشہ کی لعنت سے محفوظ  اور بے گناہوں کی رہائی کے لئے دعائیں کیں۔
  آئے ہوئے سامعین نے شیخ المشائخ پیر طریقت حضرت علامہ الحاج الشاہ السید معین الدین اشرف الاشرفی الجیلانی کی دست بوسی کی  خوردونوش کا معقول انتظام تھا ، بڑے ہی نظم ضبط کے ساتھ جامعہ کے طلبہ اور انجمن قادریہ چشتیہ کے ممبران  نے آئے ہو ئے سبھی سامعین اور مہمانوں کو کھانا کھلایا کثیرتعداد میں علمائے اہلسنت عمائدین شہر ،مشائخ عظام ائمہ کرام نے شرکت فرمائی ،جید علمائے کرام اسٹیج پر رونق افروز تھے بالخصوص جامعہ قادریہ کے شیخ الحدیث امام النحو حضرت علامہ مفتی بلال احمد نوری صاحب  ،حضرت علامہ مولانا شاہ نواز صاحب خطیب وامام حلیمہ اپارٹمینٹ کی مسجد ،حضرت علامہ حضرت علامہ مولانا عالم مصباحی صاحب،  مولانا صوفی محمدعمر صاحب ،حضرت علامہ مولانا الطاف لطیفی صاحب ،حضرت علامہ مولانا  محمود عالم رشیدی صاحب ، حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم صاحب حضرت علامہ مولانا ابوبکر صاحب حضرت علامہ مولانا عبد الجبار جوگیشور ی حضرت علامہ مولانا قاری عین الدین صاحب،  حضرت علامہ مولانا محمدابراہیم آسی صاحب ،حضرت قاری جنید عالم صاحب  مجاہد سنیت سعید نوری صاحب ،حضرت مولاناقاری الیاس صاحب ،حضرت مولاناسید علی احمد صاحب، حضرت علامہ قاری عطاء اللہ صاحب،مولانا محمود علی خان صاحب ، حضرت علامہ مولانا ابرار احمد ڈونگری حضرت علامہ مولاناعبد الرحیم صاحب حضرت مولانا قاری ولی اللہ صاحب حضرت مولانا امین الدین صاحب مولانا نور محمد صاحب ،مولانا رضوان صاحب، مولانا شمیم،ُ قاری عقیل احمد صاحب،مولانا عبدالحمید صاحب،  حافظ و قاری مظفر حسین صاحب ،مستان نجم الدین صاحب،مولانا شاکر علی صاحب ،مولانا شریف صاحب، حضرت علامہ مولانا عرفان علیمی صاحب حضرت علامہ مولاناعبد الشکورصاحب حضرت مولاناشکیل احمد اشرفی ، مولانا حسیب الرحمان صاحب،مولانااکرام الدین صاحب اس کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے شرکت فرما