سنی مسجد بلال میں ہریانہ کے امام کے قتل پر تعزیتی نشست

سنی مسجد بلال میں ہریانہ کے امام کے قتل پر تعزیتی نشست

 قصور واروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ حکومت سے مطالبہ۔ (معین میاں )

دوٹانکی سنی مسجد بلال میں ہریانہ میں امام کے قتل پر علماے کرام کی ایک تعزیتی نشست رکھی گئی ۔ جس کی سر پرستی اور صدارت پیر طریقت رہبر شریعت قائد قوم وملت حضرت علامہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ وصدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما نے فرمائی ۔ معین المشائخ نے فرمایا کہ اب نفرت کی سیاست کو روکنا بہت ضروری ہے ، ملک کی امن وسلامتی اسی میں ہے کہ بھائی چارگی کو اپناتے ہوئے نفرت کو دل سے نکال دیا جائے ۔ آپ نے امام کے وحشیانہ قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ قصورواروں اور خاطیوں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر نفرت کی آگ کو روکا نہ گیا تو ملک کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ، ایک بے قصور امام کو نشانہ بنانا نہایت ہی افسوس ناک بات ہے ، اب مذہبی رہنما بھی محفوظ نہیں رہے ،جو ملک کے لیے شرم کی بات ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعصب کی آگ بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ معین المشائخ نے مزید کہا کہ میں سنی جمعیۃ العلما کی جانب سے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہوں ۔ جامعہ قادریہ اشرفیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا صوفی محمد عمر نے کہا کہ مسجد کے امام کو اس طرح قتل کرنا ظلم و بربریت کو فروغ دینا ہے۔ جتنی مذمت کی جائے کم ہے  ایسے واقعات ملک کے دامن میں بد نما دھبہ ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ حکومت کو فوری طور پر قدم اٹھاتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کر کے سزا دینی چاہیے ۔ سنی جمعیۃ العلما کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ابراہیم آسی نے کہا کہ امام کو اس طرح سے کھلے عام شہید کرنا اقلیت کو دبانے کی کوشش کرنا ہے ۔ امام ایک مذہبی رہنما ہوتاہے ہر قوم کے لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، سماج میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو نفرت کی آگ کو پھیلاتے ہیں، امام کا قتل ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ نفرت پھیلانے والوں پر شکنجہ کسنا بہت ضروری ہے۔ سنی مسجد بلال کے خطیب و امام حضرت حافظ و قاری مشتاق احمد سیفی نے کہا کہ میں اس واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہوں ، اور معین المشائخ کے بیان کی تائید کرتا ہوں کہ حکومت خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دے ۔ اس نشست میں علماے کرام اور دانشوران موجود تھے بالخصوص حلیمہ اپارٹمنٹ کے خطیب و امام مولانا شاہ نواز ، حکیم دائم مسجد کے خطیب و امام قاری الیاس ، قصائی محلہ کے خطیب و امام قاری خورشید ، قاری قطب الدین ، مولانا عارف ، قاری نظام الدین ، قاری محفوظ ، ، قاری عبد العزیز اور دیگر حضرات موجود تھے۔