قیامت کی ہولناکی
از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی
*قیامت صور اسرافیل کی خوفناک چیخ کانام ہے ۔جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گا، اس زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہو کر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔جس سے تمام انسان اور جانور مر نے شرع ہوجائیں گے یہاں تک زمین و آسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا ، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ آفتاب کی روشنی فنا ہو جائیگی، آسمان کے پر خچے اڑ جائیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔
*نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔“ (بخاری و مسلم)
*سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں روز قیامت، حق والوں کے حق ضرور ادا کرنے ہوں گے حتی کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ “ (مسلم)۔
*آقا ئے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! تمہیں اللہ کی طرف ننگے بدن ، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں جمع کیا جائے گا (بخاری)
*پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،پس جب کان بہرے کردینے والی ( قیامت ) آجائے گی۔ تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے ، اپنی ماں اور اپنے باپ سے ، اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے دوربھاگے گا ۔(بخاری)
*اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کئی جگہ فرما یاہے۔آسمان پھٹ جائے گا۔ پہاڑ اڑ جائیں گے ۔ روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی ۔جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔
*قیامت کا دن بہت طویل ہوگا جیسا کہ قرآن میں ہے ۔: فرشتے اور جبرائیل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ،وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔(سورہ معارج)
Post Views: 233