تجارت کے آداب/Tijart Ke Aadab

تجارت کے آداب
*حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسچا، امانت دار تاجرقیامت میںانبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔(ترمذی شریف)*آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابہترین کمائی اُن تاجروں کی ہے جو جھوٹ نہیں بولتے، امانت میں خیانت نہیں کرتے، وعدہ خلافی نہیں کرتے اور خریدتے وقت چیز کی مذمت نہیںکرتے ۔ (شعب الایمان)
* رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سایہ میں ہو گا۔ (الترغیب والترھیب)
*سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رزق کے نو حصے تجارت میں ہیں اور ایک حصہ جانوروں کی پرورش میں ہے۔(کنزالعمال)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بلاشبہ رزق کے بیس دروازے ہیں، ان میں سے انیس دروازے تاجر کے لیے ہیں اور ایک دروازہ ہاتھ سے کام کرنے والے کے لئے ہے (مسند الفردوس)
*رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ،اللہ تعالی کی رحمت نازل ہو اُس آدمی پر جو بیچتے وقت ، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نہایت آسان معاملہ کرے(بخاری شریف)
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،لین دین میں سچ بولنے کی بناء پر اللہ تعالی اس میں برکت دے دیتا ہے اور جھوٹ بولنے کی بناء پر اس کی برکت کو مٹا دیا جاتا ہے ۔(بخاری شریف)
*نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جوقوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اسے قحط سالی ، مہنگائی اور بادشاہ کے ظلم میں جکڑ لیا جاتا ہے ۔ ( ابن ماجہ)
*آقائے دوجہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،قسم سے سودا بک جاتا ہے اور کمائی کی برکت مٹ جاتی ہے ۔ (بخاری شریف)
* حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ میں اس چیز کا سودا کروں جو میرے پاس موجود نہیں ۔( ترمذی شریف)
* رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،جو بائع کسی مسلمان کا سودا واپس کر لے ، اللہ تعالی قیامت کے روز اس کے گناہ معاف فرما دے گا ۔ (ابو داؤد شریف)