شب برات نجات و مغفرت کی رات
از قلم :مفتی محمد ابراہیم آسی
خدائے تعالی کی رحمت اور اسکے انعامات کی با رش ہم بندوں پر ہر آن اور ہر لمہ ہوتی رہتی ہے مگر کچھ ایام اورکچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جس میں اس کے فضل وانعام اور جود عطا کی بارش بہ نسبت اور دنوں کے تیز سے تیزہو جاتی ہے انھیں میں سے ایک رات شب برات بھی ہے ۔یہ ترجمہ ہے کہ عربی کے لفظ’’لیلتہ البرات ‘‘کا جس کا مطلب ہے کہ نجات کی رات چو نکہ اس مبارک رات میں اللہ تعالی اپنے بے شمار گنہ گہگا ر بندوں کو عذاب دوزخ اور نار جہنم سے نجات و چھٹکارا عطا کرتا ہے ،اسی لئے اس کو عربی میں لیلتہ البرات اور فارسی میں شب برات کہتے ہیں روایت کے مطابق اللہ تعالی اس رات میں بنی کلب کے بکریوں کے بال کی تعداد کے برابر اپنے خطا کار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اور دنوں اور دیگر راتوں میں اللہ کی رحمت کے متلاشی ہم ہوتے ہیں ،مگر اس رات کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت ہماری تلاش میں ہمارے لئے دامن پسارے رہتی ہے ،اللہ تعالی اپنے کرم سے اس شب میں آسمان دنیا پر اجلال فر ماتا ہے غروب آفتاب سے لیکر صبح صادق تک اس کا بے پنا ہ کرم اور رحمت یو ں پکار تی رہتی ہے کہ تم میں سے کو ئی پریشان ہے اس کی پریشانی کو ٹال دوں ،ہے کوئی حاجت مند، اور کسی مشکل میں گرفتا ر کہ اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کردوں ہے کوئی رزق کاطالب کہ اسے رزق عطا کردوں ،ہے کوئی بیمار کہ صحت وتندروستی سے نواز دوں ،ہے کوئی اپنے گنا ہوں اور خطاؤں پر نادم اور تائب کہ اس کی توبہ قبول کرکے اس کو بخش دوںرات بھر یہ سلسلہ جاری وساری رہتا ہے تا ہم کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس بابرکت رات میں اللہ کی رحمت اور الطاف و انعامات سے محروم رہتے ہیں جیسے شرابی کینہ پرور ماں باپ کے نافرمان سود خور ،ساحر، جادوگر انھیں چاہیے کہ ا س رات میں اپنے گناہوں پر پشیمان ہوں اور اپنے رب کے حضور توبہ نصوح یعنی سچی توبہ کریں والدین سے معافی کے خواستگار ہوں اور ان سے حسن سلوک کریں یقین ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت انھیں بھی ڈھانپ لے گی یہ رات نہایت ہی اہمیت کی حامل رات ہے اس کی متعدد خصوصیات ہیں اسی رات کو ملااعلیٰ میں سال تبدیل ہوتا ہے اس موقع سے روزے کا اہتمام بڑا مستحسن بھی اور وہ دو روزے جس میں حکمت یہ ہے کہ اوپر کے اعتبار سے جب ہمارا سال ختم ہورہا ہو تو بھی ہم روزہ سے ہوں اور سال شروع ہو تو بھی ہم روزے سے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ مجھے یہ پسند ہے جب دنیا سے رخصت ہو ں تو روزہ کی حالت میں ، اور جب بندے کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں تو وہ روزہ کی حالت میں
بعد مگرب جو دودو رکعتیں نماز یں پڑھیں جاتی ہے یہ بھی اللہ تعالی انتہائی و خوشنودی کا ذریعہ ہے جس مقصد کے تحت وہ پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں کامیابی ملتی ہے مثلادرازی عمر رزق میں وسعت وفراخی مخلوق سے استغناء و بے نیازی ،ارشاد باری تعالی ’’فیھا یفرق کل امر حکیم ‘‘اس میں ہر حکمت وا لے کام بانٹے جاتے ہیں اس آیت مبارکہ میں لیلتہ البرات کی جانب اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے بارے میں جو فیصلے فرمادیئے ہیں اس کی لسٹ اور فہرست فرشتوں کو ا س رات میں دے دیتا ہے اور سال بھر اسی کے مطابق امور انجام پاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس رات میں گریہ وزاری کی جاتی ہے کہ اے رب اگر تونے ہمیں بدبخت لکھ دیا ہے یا محروم تو تو قادر مطلق ہے۔ہماری بدبختی کو سعادت مندی میں بدل دے ۔ دعائے نصف شعبان جو پڑھی جاتی ہے اس کا مضمون کچھ اسی طرح کاہے جو کہ حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور بہت ہی پر اثر ہے اس شب میں اسے کثرت سے پڑھی جاتی ہے۔خصوصا اس رات میں سو رکعت نماز نفل پڑھنی چاہئے مذکورہ آیت کریمہ کے ذیل میں علامہ صا وی رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ’’ من صلی فیھامأۃ رکعۃ ارسل اللہ تعالی الیہ مأۃملک ثلاثون یبشرونہ باالجنۃ و ثلاثون یومنہ من عذاب النارو ثلاثون ید فعون عنہ آفات الدنیا وعشر ید فعو ن عنہ مکائد الشییطان‘‘ یعنی جس نے اس رات میں سو رکعت نمازپڑھی تو اللہ تعالی اس کی جانب سو فرشتے بھیجتا ہے ۔ تیس اسے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ،اور تیس اسے عذاب دوزخ سے بچاتے ہیں ،اور تیس اسے دنیا کی مصیبت سے اس کو محفوظ رکھتے ہیں اور دس شیطان کے دھوکے اور مکاری سے اسکی حفاظت کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں قضائے عمری اور صلوٰۃ و تسبح ادا کی جائے مردوں کے ایصال ثواب کی خاطر قبرستان جانا یہ بھی مسنون ہے لہو ولعب سے اور تماشہ بینی اور پٹاخہ بازی اور ہر قسم کے خرافات سے بچاجائے ساتھ ہی فلاح امت اور آخرت کی سرخ روئی کے لئے الحاح وزاری کے ساتھ دعاء کی جائے رات بھر خیرات وصدقات غرباء، وفقراء ،مساکین کی خبر گیری کی جائے ،پوری رات توبہ استغفار میں بسر کی جائے آنکھیں ندامت و پشیمانی کے آنسوں سے بوجھل ہوں شام سے لیکر صبح تک اللہ کی رحمت کو پکار ا جائے
Post Views: 261